تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 105

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام امت کے مرسلوں کے برابر ہیں۔۱۰۵ سورة المزمل شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۲ تا ۳۲۴) ایک شخص کا اس امت میں سے مسیح علیہ السلام کے نام پر آنا ضروری ہے۔کیوں ضروری ہے تین وجہ سے۔اول یہ کہ مماثلت تامہ کاملہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جو آیت گیا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا سے مفہوم ہوتی ہے اس بات کو چاہتی ہے۔وجہ یہ کہ آیت إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُم رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولاً صاف بتلا رہی ہے کہ جیسے حضرت موسیٰ اپنی امت کی نیکی بدی پر شاہد تھے ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی شاہد ہیں مگر یہ شہادت دوامی طور پر بجز صورت استخلاف کے حضرت موسیٰ کے لئے ممکن نہیں ہوئی یعنی خدا تعالیٰ نے اسی اتمام حجت کی غرض سے حضرت موسیٰ کے لئے چودہ سو برس تک خلیفوں کا سلسلہ مقرر کیا جو در حقیقت توریت کے خادم اور حضرت موسیٰ کی شریعت کی تائید کے لیے آتے تھے تا خدا تعالی بذریعہ ان خلیفوں کے حضرت موسیٰ کی شہادت کے سلسلہ کو کامل کر دیوے اور وہ اس لائق ٹھہریں کہ قیامت کو تمام بنی اسرائیل کی نسبت خدا تعالیٰ کے سامنے شہادت دے سکیں۔ایسا ہی اللہ جل شانہ نے اسلامی امت کے کل لوگوں کے لئے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایا إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ اور فرمایا وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء : ۴۲) مگر ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف تئیس برس تک اپنی امت میں رہے پھر یہ سوال کہ دائمی طور پر وہ اپنی امت کے لئے کیوں کر شاہد ٹھہر سکتے ہیں یہی واقعی جواب رکھتا ہے کہ بطور استخلاف کے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دیئے اور خلیفوں کی شہادت بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت متصور ہوئی اور اس طرح پر مضمون آیت إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمُ ہریک پہلو سے درست ہو گیا۔غرض شہادت دائی کا عقیدہ جونص قرآنی سے بتواتر ثابت اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلّم ہے تبھی معقولی اور تحقیقی طور پر ثابت ہوتا ہے جب خلافت دائمی کو قبول کیا جائے۔اور یہ امر ہمارے مدعا کو ثابت کرنے والا ہے فتدبر۔شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۶۲، ۳۶۳) جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا ذکر نہیں ہے وہ نہایت غلطی پر ہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ مسیح موعود کا ذکر نہایت اکمل اور اتم طور پر قرآن شریف میں پایا جاتا ہے۔دیکھو اول قرآن شریف نے آيت كما اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا میں صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ