تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 104
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۴ سورة المزمل انجیل دی اور اُس کے تابعین کے دلوں میں رحمت اور شفقت رکھ دی یعنی وہ تلوار سے نہیں بلکہ اپنی تواضع اور فروتنی اور اخلاق سے دعوت دین کرتے تھے اس آیت میں اشارہ یہ ہے کہ موسوی شریعت اگر چہ جلالی تھی اور لاکھوں خون اس شریعت کے حکموں سے ہوئے یہاں تک کہ چار لاکھ کے قریب بچہ شیر خوار بھی مارا گیا لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اُس سلسلہ کا خاتمہ رحمت پر کرے اور انہیں میں سے ایسی قوم پیدا کرے کہ وہ تلوار سے نہیں بلکہ علم اور خلق سے اور محض اپنی قوت قدسیہ کے زور سے بنی آدم کوراہ راست پر لاویں۔آب چونکہ مماثلت فی الانعامات ہونا از بس ضروری ہے اور مماثلت تامہ بھی متفق ہو سکتی تھی کہ جب مماثلت فی الانعامات متحقق ہو۔پس اسی لئے یہ ظہور میں آیا کہ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قریبا چودہ سو برس تک ایسے خدام شریعت عطا کئے گئے کہ وہ رسول اور مہم من اللہ تھے اور اختتام اس سلسلہ کا ایک ایسے رسول پر ہوا جس نے تلوار سے نہیں بلکہ فقط رحمت اور خلق سے حق کی طرف دعوت کی۔اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو۔بھی وہ خدام شریعت عطا کئے گئے جو بر طبق حدیث عُلَماء امتى كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ملہم اور محدث تھے اور جس طرح موسیٰ کی شریعت کے آخری زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام بھیجے گئے جنہوں نے نہ تلوار سے بلکہ صرف خلق اور رحمت سے دعوت حق کی۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے اس شریعت کے لئے مسیح موعود کو بھیجا تا وہ بھی صرف خُلق اور رحمت اور انوار آسمانی سے راہ راست کی دعوت کرے اور جس طرح حضرت مسیح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قریبا چودہ سو برس بعد آئے تھے اس مسیح موعود نے بھی چودھویں صدی کے سر پر ظہور کیا اور محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے انطباق کلی پا گیا۔اور اگر یہ کہا جائے کہ موسوی سلسلہ میں تو حمایت دین کے لیے نبی آتے رہے اور حضرت مسیح بھی نبی تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام مرسل رکھا ایسا ہی محدثین کا نام بھی مرسل رکھا۔اسی اشارہ کی غرض سے قرآن شریف میں وَقَفَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ آیا ہے اور یہ نہیں آیا کہ وَقَفَيْنَا مِن بَعْدِهِ بالا نبیاء۔پس یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدث ہوں چونکہ ہمارے سید و رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت صلعم کوئی نبی نہیں آسکتا اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے اور اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ چونکہ ثُلَّه کا لفظ دونوں فقروں میں برابر آیا ہے۔اس لئے قطعی طور پر یہاں سے ثابت ہوا کہ اس امت کے محدث اپنی تعداد میں اور اپنے طولانی سلسلہ میں موسوی