تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 103

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۳ سورة المزمل کے زمانہ تک تھی۔یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اترا اور وہ اثر نا روحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللہ کی اصلاح کے لئے نزول ہوتا ہے اور سب باتوں میں اسی زمانہ کے ہم شکل زمانہ میں اتر ا جو مسیح ابن مریم کے اترنے کا زمانہ تھا تا سمجھنے والوں کے لئے نشان ہو۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸) خدائے تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی قرار دیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا اليْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا - اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موسلی کی طرح اور کفار کو فرعون کی طرح ٹھہرایا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۰) ظاہر ہے کہ گیا کے لفظ سے یہ اشارہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں۔چنانچہ توریت باب استثنا میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ لکھا ہے اور ظاہر ہے کہ مماثلت سے مراد مماثلت تامہ ہے نہ کہ مماثلت ناقصہ۔کیونکہ اگر مماثلت ناقصہ مراد ہو تو پھر اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خصوصیت باقی نہیں رہتی وجہ یہ کہ ایسی مماثلت والے بہت سے نبی ثابت ہوں گے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم سے تلوار بھی اُٹھائی اور حضرت موسیٰ کی طرح جنگ بھی کئے۔اور عجیب طور پر فتحیں بھی حاصل کیں مگر کیا وہ اس پیشگوئی کے مصداق ٹھہر سکتے ہیں ہر گز نہیں۔غرض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ جب مماثلت سے مماثلت تامہ مراد ہو۔اور مماثلت تامہ کی عظیم الشان جزوں میں سے ایک یہ بھی جزو ہے کہ اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ کو اپنی رسالت سے مشرف کر کے پھر بطور اکرام و انعام خلافت ظاہری اور باطنی کا ایک لمبا سلسلہ ان کی شریعت میں رکھ دیا جو قریبا چودہ سو برس تک ممتد ہو کر آخر حضرت عیسی علیہ السلام پر اُس کا خاتمہ ہوا اس عرصہ میں صدہا بادشاہ اور صاحب وحی اور الہام شریعت موسوی میں پیدا ہوئے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ شریعت موسوی کے حامیوں کی ایسے عجیب طور پر مدد کرتا رہا جو ایک حیرت انگیز یادگار کے طور پر وہ باتیں صفحات تاریخ پر محفوظ رہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَقَفَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ (البقرة : ۸۸) ثُمَّ قَفَيْنَا عَلَى أَثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَهُ الْإِنْجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأفَةً وَرَحْمَةٌ ( الحديد : ۲۸) یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور بہت سے رُسل اس کے پیچھے آئے پھر سب کے بعد عیسی ابن مریم کو بھیجا اور اُس کو