تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page xiii
xii مضمون اخلاقی حالتوں کے دوسرے سرچشمہ کا نام قرآن شریف میں نفس لوامہ ہے اس کا نام لوامہ اس لئے رکھا کہ وہ انسان کو بدی پر ملامت کرتا ہے قرآن شریف نے کسوف خسوف کے نشان کو قرب قیامت کے نشانوں میں سے لکھا ہے جو لوگ سچے دل سے خدا تعالیٰ کو نہیں ڈھونڈتے ان پر خدا کی طرف سے رجعت پڑتی ہے وہ دنیا کی گرفتاریوں میں ایسے مبتلا رہتے ہیں کہ گویا پا بز نجیر ہیں سچی خوشحالی حقیقت میں ایک متقی ہی کے لئے ہے کافور کا لفظ اس واسطے اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے کہ لغت عرب میں کفر دبانے اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں زنجبیل دو لفظوں سے مرکب ہے زنا اور جبل سے زنا لغت عرب میں اوپر چڑھنے کو کہتے ہیں اور جبل پہاڑ کو علم طب کی رو سے زنجبیل وہ دوا ہے جس کو ہندی میں سونٹھ کہتے ہیں کافور کفر “ سے مشتق ہے اور لغت عرب میں دبانے اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں 66 مومن کے نفس کی تکمیل دوشر بتوں کے پینے سے ہوتی ہے انسان کامل نیک تب ہی ہوتا ہے کہ نہ صرف بدیوں کو ترک کرے بلکہ اس کے ساتھ نیکیوں کو بھی کامل درجہ تک پہنچائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اعلی درجہ کا قوت قدسی اور تزکیہ نفس کی صفحه ۱۲۳ ۱۲۳ ۱۳۱ ۱۳۶ ۱۳۷ ۱۳۸ ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۳۹ ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۳ طاقت کا ہے نمبر شمار ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ १५ ۹۷ ۹۸ ۹۹ ۱۰۰ ۱۰۱