تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 101
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۱ سورة المزمل نوبت پہنچی۔ تبتل کا عملی نمونہ ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ نہ آپ کو کسی کی مدح کی پروانہ ذم کی ۔ کیا کیا آپ کو تکالیف پیش آئیں۔ مگر کچھ بھی پرواہ نہیں کی ۔ کوئی لالچ اور طمع آپ کو اس کام سے نہ نہ روک سکا جو آپ خدا کی طرف سے کرنے آئے تھے۔ جب تک انسان اس حالت کو اپنے اندر مشاہدہ نہ کرلے اور امتحان میں پاس نہ ہولے کبھی بھی بے فکر نہ ہو۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو شخص متبتل ہوگا متوکل بھی وہی ہوگا ۔ گویا متوکل ہونے کے واسطے متبتل ہونا شرط ہے کیونکہ جب تک اور وں کے ساتھ تعلقات ایسے ہیں کہ ان پر بھروسہ اور تکیہ کرتا ہے اس وقت تک خالصہ اللہ پر توکل کب ہو سکتا ہے۔ جب 6 خدا کی طرف انقطاع کرتا ہے تو وہ دنیا کی طرف سے توڑتا ہے اور خدا میں پیوند کرتا ہے اور یہ تب ہوتا ہے جبکہ کامل تو کل ہو ۔ جیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل مستقبل تھے ویسے ہی کامل متوکل بھی تھے اور یہ وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم و قبائل کے سرداروں کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے ۔ آپ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا اسی لئے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی یہ بڑا نمونہ ہے تو کل کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی اس لئے کہ اس میں خدا کو پسند کر کے دنیا کو مخالف بنا لیا جاتا ہے مگر یہ حالت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کو نہ دیکھ لے۔ جب تک یہ امید نہ ہو کہ اس کے بعد دوسرا دروازہ ضرور کھلنے والا ہے۔ جب یہ امید اور یقین ہو جاتا ہے تو وہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنا لیتا ہے اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اور دوست بنادے گا۔ جائیداد کھو دیتا ہے کہ اس سے بہتر ملنے کا یقین ہوتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدا ہی کی رضا کو مقدم کرنا تو تبتل ہے اور پھر تبتل اور تو کل توام ہیں۔ تبتل کا راز ہے توکل اور توکل کی شرط ہے تبتل ۔ یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۱ء صفحه ۱ تا ۳) تمام طریق جن کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں انسانی اختراع اور خیالات ہیں جن کا نتیجہ یہ انتیجہ کبھی کچھ نہیں ہوا۔ قرآن شریف اگر کچھ بتاتا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔ اَشَدُّ حُبًّا لِلہ کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ پر عمل کرو اور ایسی فناء اتم تم پر آجاوے کہ تَبَلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ اور خدا تعالیٰ کو سب چیزوں پر مقدم کر لو۔ یہ امور ہیں جن کے حصول کی ضرورت ہے۔ نادان انسان اپنے عقل اور خیال کے پیمانہ سے خدا کو نا پنا چاہتا ہے اور اپنی اختراع سے چاہتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا