تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page xii
xi نمبر شمار LL ۷۸ مضمون خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغائرت باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النبین پر ہے خوش البانی سے قرآن شریف پڑھنا بھی عبادت ہے ۷۹ خدا کی طرف سے جو بات آتی ہے وہ پر شوکت اور لذیذ ہوتی ہے ہمارے نزدیک اس وقت کسی کو متبتل کہیں گے جب وہ عملی طور پر اللہ تعالیٰ ۸۰ ΔΙ ۸۲ اور اس کے احکام اور رضا کو دنیا اور اس کی متعلقات و مکروہات پر مقدم کرلے یا درکھو تم ہر کام میں دیکھ لو کہ اس میں خدا راضی ہے یا مخلوق جب تک یہ حالت نہ ہو۔۔۔۔۔۔ٹھوکر کھانے کا اندیشہ ہے جو شخص متبتل ہو گا متوکل بھی وہی ہوگا گویا متوکل کے واسطے متبتل ہونا شرط ہے ۸۳ مماثلت تامہ بھی متحقق ہو سکتی تھی کہ جب مماثلت فی الانعامات متحقق ہو ۸۴ ۸۵ ۸۶ مرسل ہونے میں نبی اور محدث ایک ہی منصب رکھتے ہیں ایک شخص کا امت میں سے مسیح کے نام پر آنا کیوں ضروری ہے مسیح موعود کا ذکر نہایت اکمل اور اتم طور پر قرآن شریف میں پایا جاتا ہے ۸۷ انبیاء کی طبیعت اسی طرح واقع ہوئی ہے کہ وہ شہرت کی خواہش نہیں کیا کرتے کسی نبی نے کبھی شہرت کی خواہش نہیں کی ۸۸ ۸۹ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ کی لطیف تفسیر جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وہ رفتہ رفتہ وحشیانہ حالت میں گر کر روحانی پاکیزگی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے صفحہ ۹۵ لا لا ۹۸ : 1+1 ۱۰۴ ۱۰۴ ۱۰۵ ۱۰۵ ۱۱۵ 112 112