تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 81

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ΔΙ سورة الجن دن کے نو بجے سے رات تک ایک سخت اندھیرا ہو جاتا تھا۔غرض شہب اور دمدار ستاروں کی اصلیت میں یونانیوں کے خیالات ہیں جو اسلام کے حکماء نے لے لئے اور اپنے تجارب کو بھی ان میں ملایا لیکن حال کی نئی روشنی کی تحقیقا توں کا اُن سے بہت کچھ اختلاف ثابت ہوتا ہے ان ظلنی علوم میں یہ بات نہایت درجہ دل توڑنے والی ہے کہ آئے دن نئے نئے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ایک زمانہ وہ تھا کہ یونان کی طبیعی اور ہیئت حکمت کے کمال تک پہنچنے کے لئے ایک صراط مستقیم سمجھی جاتی تھی اور اب یہ زمانہ ہے کہ اُن کی اکثر تحقیقاتوں پر ہنسا جاتا ہے اور نہایت تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم یہ خیال نہ کریں کہ کچھ عرصہ کے بعد اس طبعی اور ہیئت پر بھی ہنسی کرنے والے پیدا ہو جائیں گے کیونکہ گو دعوی کیا جاتا ہے کہ اس زمانہ کے طبعی اور ہیئت تجارب حسیہ مشہودہ مرتیہ کے ذریعہ سے ثابت کی گئی ہے مگر در حقیقت یہ دعویٰ نہایت درجہ کا مبالغہ ہے جس سے بعض خاص صورتوں کے مسائل یقینیہ میں اُن ہزار ہا مشتبہ اور طنی اور غیر محقق خیالات کو خواہ نخواہ گھسیڑ دیا گیا ہے جن کا ابھی تک ہرگز ہرگز پورا پورا اور کامل طور پر کسی حکیم نے تصفیہ نہیں کیا۔نئی روشنی کے محقق شہب ثاقبہ کی نسبت یہ رائے دیتے ہیں کہ وہ در حقیقت لو ہے اور کوئلہ سے بنے ہوئے ہوتے ہیں جن کا وزن زیادہ سے زیادہ چند پونڈ ہوتا ہے اور دمدار ستاروں کی مانند غول کے غول لمبے بیضوی دائرے بناتے ہوئے سورج کے ارد گرد جو میں پھرتے ہیں۔ان کی روشنی کی وجہ در حقیقت وہ حرارت ہے جو اُن کی تیزی ، رفتار سے پیدا ہوتی ہے۔اور دمدار ستاروں کی نسبت اُن کا بیان ہے کہ بعض اُن میں سے کئی ہزار سال رہتے ہیں اور آخر ٹوٹ کر شہاب بن جاتے ہیں۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب آفتاب برج اسد میں یا میزان میں ہو تو ان دونوں وقتوں میں کثرت شہب ثاقبہ کی توقع کی جاتی ہے اور اکثر ۳۳ سال کے بعد یہ دورہ ہوتا ہے لیکن یہ قاعدہ کلی نہیں بسا اوقات ان وقتوں سے پس و پیش بھی یہ حوادثات ظہور میں آ جاتے ہیں چنانچہ ۱۸۷۲ء میں ستاروں کا گرنا با قرار ان ہیئت دانوں کے بالکل غیر مترقب امر تھا۔اگر چہ ۱۴ نومبر ۱۸۳۳ء اور ۲۷ نومبر ۱۸۸۵ء کو کثرت سے یہ واقعہ ظہور میں آنا اُن کے قواعد مقررہ سے ملتا ہے لیکن تاریخ کے ٹولنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ نہایت فرق کے ساتھ اور ان تاریخوں سے بہت دور بھی وقوع میں آیا ہے چنانچہ دہم مارچ ۱۵۲۱ء اور ۱۹ ؍ جنوری ۱۱۳۵ ء اور ماہ مئی ۶۱۰ء میں جو کثرت شہب ثاقبہ وقوع میں آئے اُس میں ان تمام ہیئت دانوں کو بجز سکتہ حیرت اور کوئی دم مارنے کی جگہ نہیں۔اور وہ شہب ثاقبہ جو