تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 79

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۹ سورة الجن دلالت کرتا ہے یا دین کے غلبہ کی بشارت دیتا ہے مگر جو کچھ اشارات نص قرآن کریم سے سمجھا جاتا ہے وہ ایک مفہوم عام ہے جس سے صاف اور صریح طور پر مستنبط ہوتا ہے کہ جب کوئی نبی یا وارث نبی زمین پر مامور ہو کر آوے یا آنے پر ہو یا اُس کے ارباصات ظاہر ہونے والے ہوں یا کوئی بڑی فتحیابی قریب الوقوع ہو تو ان تمام صورتوں میں ایسے ایسے آثار آسمان پر ظاہر ہوتے ہیں اور اس سے انکار کرنا نادانی ہے کیونکہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔بعض مصلح اور مجدد دین دنیا میں ایسے آتے ہیں کہ عام طور پر دُنیا کو اُن کی بھی خبر نہیں ہوتی۔مجھے کو یاد ہے کہ ابتدائے وقت میں جب میں مامور کیا گیا تو مجھے یہ الہام ہوا کہ جو براہین کے صفحہ ۲۳۸ میں مندرج ہے یا احمد بَارَكَ اللهُ فِيْك مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَنْذِرَ آبَاءَهُمْ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِينَ۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وانا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ یعنی اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی اور جو تو نے چلایا یہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا اُس نے تجھے علم قرآن کا دیا تاتو ان کو ڈراوے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔اور تا مجرموں کی راہ گھل جائے یعنی سعید لوگ الگ ہو جائیں اور شرارت پیشہ اور سرکش آدمی الگ ہو جائیں اور لوگوں کو کہہ دے کہ میں مامور ہو کر آیا ہوں اور میں اول المومنین ہوں۔ان الہامات کے بعد کئی طور کے نشان ظاہر ہونے شروع ہوئے چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ کہ ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو یعنی اس رات کو جو ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کے دن سے پہلے آئی ہے اس قدرت شہب کا تماشا آسمان پر تھا جو میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزار ہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تائیں اس کو بیان کر سکوں مجھ کو یاد ہے کہ اُس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله رعی سواس رمی کو رمی شہب سے بہت مناسبت تھی۔یہ شہب ثاقبہ کا تماشہ جو ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کے عام اخباروں میں بڑی کو حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ تھا۔لیکن خداوند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشا کے دیکھنے والا اور پھر اُس سے حظ اور لذت اٹھانے والا میں ہی تھا۔میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشا کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا۔جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں