تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 78
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ZA سورة الجن ہم پر گرتا ہے۔ان آیات کی تائید میں کثرت سے احادیث پائی جاتی ہیں۔بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ وغیر ہ سب اس قسم کی حدیثیں اپنی تالیفات میں لائے ہیں کہ شہب کا گرنا شیاطین کے رد کرنے کے لئے ہوتا ہے اور امام احمد ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ شہب جاہلیت کے زمانہ میں بھی گرتے تھے لیکن ان کی کثرت اور غلظت بعثت کے وقت میں ہوئی چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جب کثرت سے شہب گرے تو اہلِ طائف بہت ہی ڈر گئے اور کہنے لگے کہ شاید آسمان کے لوگوں میں تہلکہ پڑ گیا تب ایک نے اُن میں سے کہا کہ ستاروں کی قرار گاہوں کو دیکھو اگر وہ اپنے محل اور موقعہ سے ٹل گئے ہیں تو آسمان کے لوگوں پر کوئی تباہی آئی ورنہ یہ نشان جو آسمان پر ظاہر ہوا ہے ابن ابی کبشہ کی وجہ سے ہے ( وہ لوگ شرارت کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن ابی کبشہ کہتے تھے ) غرض عرب کے لوگوں کے دلوں میں یہ بات بھی ہوئی تھی کہ جب کوئی نبی دنیا میں آتا ہے یا کوئی اور عظیم الشان آدمی پیدا ہوتا ہے تو کثرت سے تارے ٹوٹتے ہیں۔اسی وجہ سے بمناسبت خیالات عرب کے شہب کے گرنے کی خدائے تعالیٰ نے قسم کھائی جس کا مدعا یہ ہے کہ تم لوگ خود تسلیم کرتے ہو اور تمہارے کا ہن اس بات کو مانتے کا ہیں کہ جب کثرت سے شہب گرتے ہیں تو کوئی نبی یا ملہم من اللہ پیدا ہوتا ہے تو پھر انکار کی کیا وجہ ہے۔چونکہ شہب کا کثرت سے گرنا عرب کے کاہنوں کی نظر میں اس بات کے ثبوت کے لئے ایک بدیہی امر تھا کہ کوئی نبی اور مہم من اللہ پیدا ہوتا ہے اور عرب کے لوگ کا ہنوں کے ایسے تابع تھے جیسا کہ ایک مرید مرشد کا تابع ہوتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے وہی بد یہی امران کے سامنے قسم کے پیرایہ میں پیش کیا تا اُن کو اس سچائی کی طرف توجہ پیدا ہو کہ یہ کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے انسان کا ساختہ پرداختہ نہیں۔اگر یہ سوال پیش ہو کہ شہب کا گرنا اگر کسی نبی یا ملہم یا محدث کے مبعوث ہونے پر دلیل ہے تو پھر کیا وجہ کہ اکثر ہمیشہ شہب گرتے ہیں مگر اُن کے گرنے سے کوئی نبی یا محدث دنیا میں نزول فرما نہیں ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حکم کثرت پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ جس زمانہ میں یہ واقعات کثرت سے ہوں اور خارق عادت طور پر اُن کی کثرت پائی جائے تو کوئی مرد خدا دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے کبھی یہ واقعات ارہاص کے طور پر اُس کے وجود سے چند سال پہلے ظہور میں آ جاتے ہیں اور کبھی عین ظہور کے وقت جلوہ نما ہوتے ہیں اور کبھی اُس کی کسی اعلی فتحیابی کے وقت یہ خوشی کی روشنی آسمان پر ہوتی ہے۔ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سدی سے روایت کی ہے کہ شہب کا کثرت سے گرنا کسی نبی کے آنے پر