تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 77
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيطنِ الرَّحِيمِ LL سورة الجن بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الجن بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاء فَوَجَدْ نَهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَ شُهُبَانَ وَ أَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّبْع فَمَنْ يَسْتَمِع الْآنَ يَجِدُ لَهُ شِهَابًا تَصَدَّان عرب کے لوگ بوجدان خیالات کے جو کاہنوں کے ذریعہ سے اُن میں پھیل گئے تھے نہایت شدید اعتقاد سے ان باتوں کو مانتے تھے کہ جس وقت کثرت سے ستارے یعنی شہب گرتے ہیں تو کوئی بڑا عظیم الشان انسان پیدا ہوتا ہے خاص کر اُن کے کا ہن جو ارواح خبیثہ سے کچھ تعلق پیدا کر لیتے تھے اور اخبار غیبیہ بتلایا کرتے تھے اُن کا تو گویا پختہ اور یقینی عقیدہ تھا کہ کثرت شہب یعنی تاروں کا معمولی اندازہ سے بہت زیادہ ٹوٹنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی نبی دنیا میں پیدا ہونے والا ہے اور ایسا اتفاق ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت حد سے زیادہ سقوط اشہب ہوا جیسا کہ سورۃ الجن میں خدا تعالی نے اس واقعہ کی شہادت دی ہے اور حکایتا عن الجنات فرماتا ہے وَ أَنَا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْ نَهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدٌ او شُهُبا - وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعَ ، فَمَنْ يَسْتَمِع الْآنَ يَجِدُ لَهُ شِهَابًا رَصَدَّ ا یعنی ہم نے آسمان کو ٹولا تو اُس کو چوکیداروں سے یعنی فرشتوں سے اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا اور ہم پہلے اس سے امور غیبیہ کے سننے کے لئے آسمان میں گھات میں بیٹھا کرتے تھے اور اب جب ہم سننا چاہتے ہیں تو گھات میں ایک شعلے کو پاتے ہیں جو