تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 62

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۲ سورة الزمر بخشا جائے گا جاننا چاہیئے کہ عبد کا لفظ لغت عرب میں غلام کے معنوں پر بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَلَعَبْدُ مُؤْمِنْ خَيْرٌ مِن مُشْرِكٍ (البقرة : ۲۲۲) اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے غلامی کی نسبت پیدا کرے یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامن طاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے تب وہ نجات پائے گا اس مقام میں ان کو ر باطن نام کے موحد وں پر افسوس آتا ہے کہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یاں تک بغض رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ نام که غلام نبی، غلام رسول، غلام مصطفی ، غلام احمد ، غلام محمد شرک میں داخل ہیں اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ مدار نجات یہی نام ہیں۔اور چونکہ عبد کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ ہر ایک آزادگی اور خودروی سے باہر آ جائے اور پورا متبع اپنے مولی کا ہو۔اس لئے حق کے طالبوں کو یہ رغبت دی گئی کہ اگر نجات چاہتے ہیں تو یہ مفہوم اپنے اندر پیدا کریں اور در حقیقت یہ آیت اور یہ دوسری آیت قل تو إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ (ال عمران : ۳۲) از روئے مفہوم کے ایک ہی ہیں۔کیونکہ کمال اتباع اس محویت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے جو عہد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے۔یہی سر ہے کہ جیسے پہلی آیت میں مغفرت کا وعدہ بلکہ محبوب الہی بنے کی خوشخبری ہے گویا یہ آیت کہ قُلْ يَا عِبَادِی دوسرے لفظوں میں اس طرح پر ہے کہ قُلْ يَا مُتَّبِعِی یعنی اے میری پیروی کرنے والو جو بکثرت گناہوں میں مبتلا ہور ہے ہو رحمت الہی سے نومیدمت ہو کہ اللہ جل شانہ ہبرکت میری پیروی کے تمام گناہ بخش دے گا۔اور اگر عباد سے صرف اللہ تعالیٰ کے بندے ہی مراد لئے جائیں تو معنے خراب ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ ہرگز درست نہیں کہ خدا تعالی بغیر تحقق شرط ایمان اور بغیر تحقق شرط پیروی تمام مشرکوں اور کافروں کو یونہی بخش دیوے ایسے معنے تو نصوص بینہ قرآن سے صریح مخالف ہیں۔اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ ماحصل اس آیت کا یہ ہے کہ جو لوگ دل و جان سے تیرے یا رسول اللہ غلام بن جائیں گے ان کو وہ نور ایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا کہ جو اُن کو غیر اللہ سے رہائی دے دے گا اور وہ گناہوں سے نجات پا جائیں گے اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی ان کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔اس کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے آنا الحاشر الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلى قَدینی یعنی میں وہ مردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۹۰ تا ۱۹۴) جاتے ہیں۔