تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 44

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴ سورة ص b کو بہتر سمجھا اور کہہ دیا انا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِى مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِینِ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور سے مردود ہو گیا اور آدم لغزش پر (چونکہ اسے معرفت دی گئی تھی ) اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے لگا اور خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا اس لئے دُعا کی رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف : ۲۴) یہی وہ سر ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو کہا گیا کہ اے نیک استاد، تو انہوں نے کہا کہ تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳ مورخه ۲۴/جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۲) سكتة لَا مُلَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنْهُمْ أَجْمَعِينَ۔شیطان کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں جہنم کو تجھ سے اور اُن لوگوں سے جو تیری پیروی کریں گے بھروں گا۔دیکھئے اس آیت سے صاف طور پر کھل گیا اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کو جبر کے طور پر جہنم میں ڈالے بلکہ جو لوگ اپنی بداعمالیوں سے جہنم کے لائق ٹھہریں ان کو جہنم میں گرایا جاوے گا۔جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۳۳) قُلْ مَا اسْلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَفِينَ) اولیاء اللہ کی بھی ایسی ہی حالت ہوتی ہے کہ اُن میں تکلفات نہیں ہوتے بلکہ وہ بہت ہی سادہ اور صاف دل لوگ ہوتے ہیں۔ان کے لباس اور دوسرے امور میں کسی قسم کی بناوٹ اور تصنع نہیں ہوتا مگر اس وقت اگر پیرزادوں اور مشائخوں کو دیکھا جاوے تو ان میں بڑے بڑے تکلفات پائے جاتے ہیں ان کا کوئی قول اور فعل ایسا نہ پاؤ گے جو تکلف سے خالی ہو گو یا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ امت محمدیہ ہی میں سے نہیں ہیں ان کی کوئی اور ہی شریعت ہے ان کی پوشاک دیکھو تو اس میں خاص قسم کا تکلف ہوگا نشت برخاست اور ہر قسم کی حرکات میں ایک تکلف یہاں تک کہ لوگوں سے ملنے جلنے اور کلام میں بھی ایک تکلف ہوتا ہے۔ان کی خاموشی محض تکلف سے ہوتی ہے گویا ہر قسم کی تاثیرات کو وہ تکلف ہی سے وابستہ سمجھتے ہیں۔برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان ہے وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَفِينَ اور ایسا ہی دوسرے تمام انبیاء ورسل جو وقتاً فوقتاً آئے وہ نہایت سادگی سے کلام کرتے اور اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔اُن کے قول و فعل میں کوئی تکلف