تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 36
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶ سورة ص ہے سو ایسے اعتراض کرنے والوں پر ہم کیا افسوس کریں وہ پہلے منکرین کی عادت دکھلا رہے ہیں۔طالب حق کی یہ عادت ہونی چاہیے کہ وہ دعوی کو غور سے دیکھے اور دلائل پر دلی انصاف سے نظر ڈالے اور وہ بات منہ پر لاوے جو عقل اور خدا ترسی اور انصاف کا مقتضا ہے نہ یہ کہ قبل از تحقیق یہ کہنا شروع کر دے کہ یہ سب کچھ مال کمانے کے لئے ایک مکر بنایا گیا ہے۔براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۶۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس وقت کا فر یہی رائے لگاتے تھے إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ يُرَادُ میاں یہ تو دو کا نداری ہے مخالف جس کو صحبت نصیب نہیں ہوتی اس کو صحیح رائے نہیں ملتی اور ڈور سے رائے لگانا صحیح نہیں ہے کیونکہ جب تک وہ پاس نہیں آتا اور حالات پر اطلاع نہیں پاتا کیوں کر صحیح رائے حاصل کر سکتا ہے۔انحام جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱/جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۵) انسان کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں سے ایک بد صحبت بھی ہے۔دیکھوا بوجہل خود تو ہلاک ہوا مگر اور بھی بہت سے لوگوں کو لے مرا جو اس کے پاس جا کر بیٹھا کرتے تھے اس کی صحبت اور مجلس میں بجز استہزا اور جنسی ٹھٹھے کے اور کوئی ذکر ہی نہ تھا یہی کہتے تھے ان هذا لشی یراد میاں یہ دوکانداری ہے۔اب دیکھو اور بتلاؤ کہ وہ جس کو دوکاندار اور ٹھگ کہا جاتا تھا۔ساری دُنیا میں اسی کا نور ہے یا کسی اور کا بھی۔ابو جہل مر گیا اور اس پر لعنت کے سوا کچھ نہ رہا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بلند کو دیکھو کہ شب و روز بلکہ ہر وقت درود پڑھا جاتا ہے اور ۹۹ کروڑ مسلمان اس کے خادم موجود ہیں اگر اب ابو جہل پھر آتا تو آکر دیکھتا کہ جس کو اکیلا مکہ کی گلیوں میں پھرتا دیکھتا تھا اور جس کی ایذاء دہی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتا تھا اس کے ساتھ جب ۹۹ کروڑ انسانوں کے مجمع کو دیکھتا حیران رہ جاتا اور یہ نظارہ ہی اس کو ہلاک کر دیتا۔یہ ہے ثبوت آپ کی رسالت کی سچائی کا۔اگر اللہ تعالی ساتھ نہ ہوتا تو یہ کامیابی نہ ہوتی۔کس قدر کوششیں اور منصوبے آپ کی عداوت اور مخالفت کے لئے کئے مگر آخر نا کام اور نامراد ہونا پڑا۔اس ابتدائی حالت میں جب چند آدمی آپ کے ساتھ تھے کون دیکھ سکتا تھا کہ یہ عظیم الشان انسان دُنیا میں ہوگا اور ان مخالفوں کی سازشوں سے صحیح و سلامت بیچ کر کامیاب ہو جائے گا۔مگر یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ کی عادت اسی طرح پر ہے کہ انجام خدا کے بندوں کا ہی ہوتا ہے قتل کی سازشیں، کفر کے فتوے مختلف قسم کی ایذائیں ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۳،۲)