تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 28

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸ سورة الصفت اسی طرح تیری اولاد بھی نہ گنی جائے گی۔تھوڑے سے وقت کی تکلیف تھی وہ تو گزرگئی اس کے نتیجہ میں رکس قدر انعام ملا۔آج تمام سادات اور قریش اور یہود اور دیگر اقوام اپنے آپ کو حضرت ابرا ہیم کا فرزند کہتے ہیں۔گھڑی دو گھڑی کی بات تھی وہ تو ختم ہو گئی اور اتنا بڑا انعام ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا۔فَاسْتَفْتِهم الرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُونَ۔وَ (۱۵۰ البدر جلد نمبر ۲ مورخه ۱۶/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۵) عیسائیوں کو جواب دیتے وقت بعض اوقات سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تو یہ بات بالکل صاف ہے جب ہمارا دل بہت دُکھایا جاتا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر طرح طرح کے ناجائز حملے کئے جاتے ہیں تو صرف متنبہ کرنے کی خاطر انہیں کی مسلمہ کتابوں سے الزامی جواب دئے جاتے ہیں۔ان لوگوں کو چاہیے کہ ہماری کوئی بات ایسی نکالیں جو حضرت عیسی کے متعلق ہم نے بطور الزامی جواب سے لکھی ہو اور وہ انجیل میں موجود نہ ہو۔آخر یہ تو ہم سے نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین شن کر چپ رہیں اور اس قسم کے جواب تو خود قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں جیسے لکھا ہے الكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الأنثى (النجم : ٢٢) فَاسْتَفتهم الريْكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُونَ وو لوگ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تمہارے بیٹے اور ہماری بیٹیاں؟ غرض الزامی رنگ کے جواب دینا تو طریق مناظرہ ہے ورنہ ہم حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ کا رسول اور ایک مقبول اور برگزیدہ انسان سمجھتے ہیں اور جن لوگوں کا دل صاف نہیں اُن کا فیصلہ ہم خدا پر چھوڑتے ہیں۔الحکم جلد نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ صفحه ۴) وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامُ مَّعْلُومٌ وَ إِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُونَ۔ایک یہ اعتراض ہے کہ قرآن کریم کے بعض اشارات اور ایسا ہی بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایام میں جبرائیل کے اترنے میں کسی قدر توقف بھی وقوع میں آئی ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام بعثت میں یہ بھی اتفاق ہوا ہے کہ بعض اوقات کئی دن تک جبرائیل آ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں ہوا۔اگر حضرت جبرائیل ہمیشہ اور ہر وقت قرین دائگی آنحضرت صلعم تھے اور روح القدس کا اثر