تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 27

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷ سورة الصفت کرتی تھی لیکن اس کا کہیں ذکر بھی نہیں کیا گیا کہ اس کو یہ الہام ہوا یہ وحی ہوئی بلکہ ذکر کیا گیا ہے تو اس بات کا که ابرهيم الذى وفى (النجم : ۳۸) وہ ابراہیم جس نے وفاداری کا کامل نمونہ دکھایا یا یہ کہ آیا براهِيمُ قَدْ صدقت الرؤْيَا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ یہ بات ہے جو انسان کو حاصل کرنی چاہیے اگر یہ پیدا نہ ہو تو پھر رؤیا والہام سے کیا فائدہ؟ مومن کی نظر ہمیشہ اعمال صالحہ پر ہوتی ہے اگر اعمالِ صالحہ پر نظر نہ ہو تو اندیشہ ہے کہ وہ مکر اللہ کے نیچے آجائے گا۔ہم کو تو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں اور اس کے لئے ضرورت ہے اخلاص کی ، صدق و وفا کی۔نہ یہ کہ قیل وقال تک ہی ہماری ہمت و کوشش محدود ہو۔جب ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت دیتا ہے اور اپنے فیوض و برکات کے دروازے کھول دیتا ہے اور رویا اور وحی کو القاء شیطانی سے پاک کر دیتا ہے اور اضغاث احلام سے بچا لیتا ہے۔پس اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ رویا اور الہام پر مدار صلاحیت نہیں رکھنا چاہیے۔بہت سے آدمی دیکھے گئے ہیں کہ ان کو رؤیا اور الہام ہوتے رہے لیکن انجام اچھا نہیں ہوا جو اعمال صالحہ کی صلاحیت پر موقوف ہے۔اس تنگ دروازہ سے جو صدق وفا کا دروازہ ہے گزرنا آسان نہیں۔ہم بھی ان باتوں سے فخر نہیں کر سکتے کہ رویا یا الہام ہونے لگے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ ر ہیں اور مجاہدات سے دستکش ہور ہیں اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ ۱۹ مورخه ۸ تا ۱۶ رمئی ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۰) انبیاء اور رسل کو جو بڑے بڑے مقام ملتے ہیں وہ ایسی معمولی باتوں سے نہیں مل جاتے جو نرمی سے اور آسانی سے پوری ہو جائیں بلکہ ان پر بھاری ابتلاء اور امتحان وارد ہوئے جن میں وہ صبر اور استقلال کے ساتھ کامیاب ہوئے تب خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو بڑے بڑے درجات نصیب ہوئے۔دیکھو حضرت ابراہیم پر کیسا بڑا ابتلاء آ یا۔اس نے اپنے ہاتھ میں چھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے اور اس چُھری کو اپنے بیٹے کی گردن پر اپنی طرف سے پھیر دیا مگر آگے بکرا تھا۔ابراہیم امتحان میں پاس ہوا اور خدا نے بیٹے کو بھی بچا لیا۔تب خدا تعالیٰ ابراہیم پر خوش ہوا کہ اُس نے اپنی طرف سے کوئی فرق نہ رکھا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ بیٹا بچ گیاور نہ ابراہیم نے اس کو ذبح کر دیا تھا۔اس واسطے اس کو صادق کا خطاب ملا۔اور توریت میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا اے ابراہیم تو آسمان کے ستاروں کی طرف نظر کر کیا تو ان کو گین سکتا ہے۔