تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 26

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الصفت اذلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الرَّقُومِ إِنَّا جَعَلْنَهَا فِتْنَةً لِلظَّلِمِينَ إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ * طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيْطِينِ ۔ جیسا کہ قرآن شریف نے عالم آخرت میں ایمان کے پاک درختوں کو انگور اور انار اور عمدہ عمدہ میووں سے مشابہت دی ہے اور بیان فرمایا ہے کہ اس روز وہ ان میووں کی صورت میں متمثل ہوں گے اور دکھائی دیں گے۔ ایسا ہی بے ایمانی کے خبیث درخت کا نام عالم آخرت میں زقوم رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ے اذلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الرَّقُومِ ۔۔۔۔ الخ تم بتلاؤ کہ بہشت کے باغ اچھے ہیں یا زقوم کا درخت ۔ جو ظالموں کے لئے ایک بلا ہے۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑھ میں سے نکلتا ہے یعنی تکبر اور خود بینی سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی دوزخ کی جڑھ ہے اس کا شگوفہ ایسا ہے جیسا کہ شیطان کا سر ۔ شیطان کے معنے ہیں ہلاک ہونے والا ۔ یہ لفظ شیط سے نکلا ہے۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ اس کا کھانا ہلاک ہونا ہے۔ وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۲) میری نصیحت بار بار یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اپنے نفسوں کا بار بار مطالعہ کرو۔ بدی کا چھوڑ دینا یہ بھی ایک نشان ہے اور خدا ہی سے چاہو کہ وہ تمہیں توفیق دے کیونکہ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ قوئی بھی اس نے ہی پیدا کئے ہیں۔ الحکم جلد ا ا نمبر ۲ مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۷ء صفحه ۱۰) بدیوں کو چھوڑ دینا کسی کے اپنے اختیار میں نہیں اس واسطے راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر تہجد میں خدا کے حضور دعائیں کرو۔ وہی تمہارا پیدا کرنے والا ہے ۔ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ۔ پس اور کون ہے جو ان بدیوں کو ڈور کر کے نیکیوں کی توفیق تم کو دے۔ - ( بدر جلد ۶ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۷) وَنَادَيْنَهُ أَنْ يَا بُرْهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۔ صوفیوں نے لکھا ہے کہ اوائل سلوک میں جو رویا یا وحی ہو اس پر توجہ نہیں کرنی چاہیے وہ اکثر اوقات اس راہ میں روک ہو جاتی ہے۔ انسان کی اپنی خوبی اس میں تو کوئی نہیں کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو وہ کسی کو کوئی اچھی خواب دکھا دے یا کوئی الہام کرے اس نے کیا کیا ؟ دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت و وحی ہوا