تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 25

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵ سورة الصفت نے عَنْ وَجْهِهِ الرَّدَاءَ وَقَبَّلَهُ وَبَكى، وَقَالَ إِنَّكَ مبارک سے چادر ہٹائی آپ کا بوسہ لیا اور رو پڑے اور طَيِّبُ حَيًّا وَمَيْتًا لَنْ يَجْمَعَ اللهُ عَلَيْكَ کہا یا رسول اللہ آپ زندگی اور موت دونوں حالتوں میں الْمَوْتَيْنِ إِلَّا مَوْتَتَكَ الْأُولَى فَرَدَّ بِذلِكَ پاک ہیں اللہ تعالیٰ آپ پر سوائے آپ کی پہلی موت کے الْقَوْلِ قَوْلَ عُمَرَ، وَكَانَ مَأْخَذُ قَوْلِهِ قَوْلَهُ دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔ اور اس طرح آپ ۔ تَعَالَى إِلَّا مَوْتَتَنَا الأُولى۔ وَكَانَتْ لأبي حضرت عمرؓ کے قول کی تردید کی اور آپ کے استدلال کا بَكْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُنَاسَبَةٌ عَجِيبَةٌ مأخذ يبى آیت إِلَّا مَوْتَتَنَا الأُولیٰ ہی تھی اور حضرت بِدَقَائِقِ الْقُرْآنِ وَرُمُوْزِهِ وَأَسْرَارِهِ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو قرآن کریم کے دقائق ، رموز ، اسرار وَمَعَارِفِهِ، وَكَانَ لَهُ مَلَكَةٌ كَامِلَةٌ فِي اور معارف سے عجیب مناسبت تھی اور قرآن کریم سے اسْتِنْبَاطِ الْمَسَائِلِ مِنَ الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ، مسائل مستنبط کرنے میں کامل ملکہ حاصل تھا۔ پس اس فَلِذَلِكَ هُدِى قَلْبُهُ إِلَى الْحَقِّ وَفَهِمَ أَنَّ وجہ سے آپ کا دل حق کی طرف ہدایت پا گیا اور آپ سمجھ الرُّجُوعَ إِلَى الدُّنْيَا مَوْتَةٌ ثَانِيَةٌ، وَهِيَ لَا گئے کہ دُنیا کی طرف رجوع کرنا دوسری موت ہے اور يَجُوزُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ بِدَلِيْلِ قَوْلِهِ تَعَالیٰ جنتیوں کے لئے یہ جائز نہیں، اور آپ نے دلیل اس حِكَايَةً عَنْ أَهْلِهَا إِلَّا مَوْتَتَنَا الأُولَى وَمَا آیت سے پکڑی جو اللہ تعالیٰ نے اہل جنت سے حکایت نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ فَإِنَّ رَجُوعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ کرتے ہوئے بیان کی ہے یعنی إِلَّا مَوْتَتَنَا الأُولَى إِلَى الدُّنْيَا ثُمَّ مَوْتَهُمْ وَوُرُودَ الَامِ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِین کیونکہ اہل جنت کا دُنیا کی طرف السَّكَرَاتِ وَالْأَمْرَاضِ عَلَيْهِمْ نَوْعٌ مِن واپس آنا ، پھر ان پر موت کا دوبارہ واقع ہونا اور ان پر التَّعْذِيبِ، وَقَدْ نَجَّى اللهُ إِيَّاهُمْ مِنْ كُلِّ سكرات موت اور امراض کا وارد ہونا عذاب ہی کی ایک عَذَابٍ، وَأَوَاهُمْ عِنْدَهُ بِأَعْطَاءِ كُلَّ حُبُورٍ قسم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر عذاب سے نجات وَسُرُورٍ مِنْ يَوْمِ انْتِقَالِهِمْ إِلَى الدَّارِ دے دی ہے اور دار آخرت کی طرف منتقل کر کے اور ہر الآخِرَةِ، فَكَيْفَ يُمْكِنُ أَنْ يَرْجِعُوا إِلَى دَارِ ایک خوشی اور سرور عطا کر کے اپنے پاس پناہ دی ہے۔ التَّعْذِيبَاتِ مَرَّةً ثَانِيَةً فَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس دُنیا دارالعذاب کی أَهْلِ الْجَنَّةِ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ طرف دوبارہ واپس آئیں ۔ پس اہل جنت کے قول وَمَا (حمامة البشری، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۲۴۲ تا۲۴۵) نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ کے یہی معنے ہیں ۔ ( ترجمہ از مرتب )