تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 14
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴ سورة يس اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۷) کرنے سے عاجز ہے۔قَالَ مَنْ يُنِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ - قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِى اَنْشَاهَا أَوّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُل خَلْقٍ عَلِيمٌ یعنی انسان کہتا ہے کہ ایسی ہڈیوں کو کون نئے سرے زندہ کرے گا جو سر گل گئی ہوں۔ان کو کہہ دے وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور وہ ہر یک طور سے پیدا کرنا جانتا ہے۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۳) ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ خدا خلق اسباب نہیں کرتا مگر بعض اسباب ایسے ہوتے ہیں کہ نظر آتے ہیں اور بعض اسباب نظر نہیں آتے غرض یہ ہے کہ خدا کے افعال گوناگوں ہیں۔خدائے تعالیٰ کی قدرت کبھی در ماندہ نہیں ہوتی اور وہ نہیں تھکتا وَ هُوَ بِكُلِ خَلْقٍ عَلِيمٌ - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۰) اپنے ذاتی تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ ایک شیر میں طعام یا کسی قسم کا میوہ یا شربت غیب سے نظر کے سامنے آگیا ہے اور وہ ایک غیبی ہاتھ سے منہ میں پڑتا جاتا ہے اور زبان کی قوت ذائقہ اس کے لذیذ طعم سے لذت اُٹھاتی جاتی ہے اور دوسرے لوگوں سے باتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حواس ظاہری بخوبی اپنا اپنا کام دے رہے ہیں اور یہ شربت یا میوہ بھی کھایا جارہا ہے اور اس کی لذت اور حلاوت بھی ایسی ہی کھلے کھلے طور پر معلوم ہوتی ہے بلکہ وہ لذت اس لذت سے نہایت الطف ہوتی ہے اور یہ ہر گز نہیں کہ وہ وہم ہوتا ہے یا صرف بے بنیاد تخیلات ہوتے ہیں بلکہ واقعی طور پر وہ خدا جس کی شان بحلِ خَلْقٍ عَلِیمٌ ہے ایک قسم کے خلق کا تماشہ دکھا دیتا ہے۔پس جبکہ اس قسم کے خلق اور پیدائش کا دنیا میں ہی نمونہ دکھائی دیتا ہے اور ہر یک زمانہ کے عارف اس کے بارے میں گواہی دیتے چلے آئے ہیں تو پھر وہ تمثلی خلق اور پیدائش جو آخرت میں ہوگی اور میزان اعمال نظر آئے گی اور پل صراط نظر آئے گا اور ایسا ہی بہت سے اور امور روحانی تشکل کے ساتھ نظر آئیں گے اس سے کیوں عقلمند تعجب کرے۔کیا جس نے یہ سلسلہ مثلی خلق اور پیدائش کا دنیا میں ہی عارفوں کو دکھا دیا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید ہے کہ وہ آخرت میں بھی دکھاوے بلکہ ان کو۔تمثلات کو عالم آخرت سے نہایت مناسبت ہے کیونکہ جس حالت میں اس عالم میں جو کمال انقطاع کا تجلی گاہ نہیں ہے تیمثلی پیدائش تزکیہ یافتہ لوگوں پر ظاہر ہو جاتی ہے تو پھر عالم آخرت میں ( جو ) اکمل اور اتم انقطاع کا مقام ہے کیوں نظر نہ آوے۔الحکم جلدے نمبر ۲۲ مورخہ ۷ ارجون ۱۹۰۳ صفحه ۱) کیا وہ جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں کہ ان تمام چیزوں کی مانند اور