تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 440
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۰ سورة الجمعة دوو صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گزر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالی نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔وہ بھی صحابہ ہی میں داخل ہے جو احمد کے بروز کے ساتھ ہوں گے چنانچہ فرمایا ب وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بهم یعنی صحابہ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو بلکہ مسیح موعود کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہوگی۔اس آیت کے متعلق مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔منھم کے لفظ سے پایا جاتا ہے کہ باطنی توجہ اور استفاضہ صحابہ ہی کی طرح ہوگا۔صحابہ کی تربیت ظاہری طور پر ہوئی تھی مگر ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تربیت کے نیچے ہوں گے اس لئے سب علماء نے اس گروہ کا نام صحابہ ہی رکھا ہے جیسے ان صفات اربعہ کا ظہور ان صحابہ میں ہوا تھا ویسے ہی ضروری ہے کہ اخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کی مصداق جماعت صحابہ میں بھی ہو۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۴) اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کے آثار اور ثمرات ہر وقت پائے جاتے ہیں۔اس وقت بھی وہ خدا جو ہمیشہ سے ناطق خدا ہے اپنا لذیذ کلام دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے۔اور قرآن شریف کے اعجاز کا ثبوت اس وقت بھی دے رہا ہے یہ قرآن شریف ہی کا معجزہ ہے کہ جو ہم تحدی کر رہے ہیں کہ ہمارے بالمقابل قرآن شریف کے حقائق معارف عربی زبان میں لکھو اور کسی کو یہ قدرت نہیں ہوتی کہ مقابلہ کے لئے نکل سکے۔ہمارا مقابلہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ ہے کیونکہ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ جو فرمایا گیا ہے۔اس وقت جو تعلیم الکتب والحکمت ہو رہی ہے اور ایک قوم کو اس وقت بھی صحابہ کی طرح اللہ تعالیٰ بنانا چاہتا ہے اس کی اصلی غرض یہی ہے کہ تا قرآن شریف کا معجزہ ثابت ہو۔الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱) اس زمانہ میں بھی قرآن شریف کے کلام کے اعجاز کے لئے مسیح موعود کو کلام کا معجزہ دیا گیا ہے اسی طرح پر جیسے دوسرے خوارق اور نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات اور خوارق کے ثبوت کے لئے دیئے گئے ہیں جس جس قسم کے نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے تھے اسی رنگ پر اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے نشانات کو رکھا ہے۔کیونکہ یہ سلسلہ اسی نقش قدم پر ہے اور دراصل وہی سلسلہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بروزی آمد کی پہلے ہی سے پیشگوئی ہوچکی تھی اور اخَرِيْنَ مِنْهُمْ میں یہ وعدہ کیا گیا تھا پس جیسے