تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 12

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الم سورة يس تجھے سلامتی ہے یہ رب رحیم نے فرمایا ہے۔ (حقیقة المهدی ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۴۶) تم سب پر اس خدا کا سلام جو رحیم ہے۔ وَامْتَازُوا الْيَوْمَ أَيُّهَا الْمُجْرِمُونَ ) اے مجرمو آج تم الگ ہو جاؤ۔ حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه (۹۴) ( تذکرۃ الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۹) وَ مَنْ تُعَمِّرُهُ نُنَكِسُهُ فِي الْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ ) جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں تو اس کی پیدائش کو الٹا دیتے ہیں یعنی انسانیت کی طاقتیں اور قوتیں اس سے دور ہو جاتی ہیں۔ حواس میں اس کے فرق آجاتا ہے۔ عقل اس کی زائل ہو جاتی ہے۔ اب اگر مسیح ابن مریم کی نسبت فرض کیا جائے کہ اب تک جسم خاکی کے ساتھ زندہ ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ ایک مدت دراز سے ان کی انسانیت کے قومی میں بکلی فرق آ گیا ہوگا اور یہ حالت خودموت کو چاہتی ہے اور یقینی طور پر ماننا پڑتا ہے کہ مدت سے وہ مر گئے ہوں گے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۹) آیت وَ مَنْ تُعَمِّرُهُ نُنَكِسُهُ فِي الْخَلْقِ سے حضرت عیسی کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ جبکہ بموجب تصریح اس آیت کے ایک شخص جونو ۹۰ ے یا سو برس تک پہنچ گیا ہو اس کی پیدائش اس قدر اُلٹا دی جاتی ہے که تمام حواس ظاہریہ و باطنیہ قریب الفقدان یا مفقود ہو جاتے ہیں تو پھر وہ جو دو ہزار برس سے اب تک جیتا ہے اس کے حواس کا کیا حال ہوگا اور ایسی حالت میں وہ اگر زندہ بھی ہوا تو کون سی خدمت دے گا۔ اس آیت میں کوئی استثناء موجود نہیں ہے اور ہمیں نہیں چاہیے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے بیان کے آپ ہی ایک استثناء فرض کر لیں ۔ ہاں اگر نص صریح سے ثابت ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام با وجود جسمانی حیات کے جسمانی تحلیلوں اور تنزل حالات اور فقدان قوئی سے منزہ ہیں تو وہ نص پیش کریں۔ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۶) وَ مِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا یعنی تم پر دو ہی حالتیں وارد ہوتی ہیں ایک یہ کہ بعض تم میں سے قبل از پیرانہ سالی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض ارزل العمر تک پہنچتے ہیں یہاں تک کہ صاحب علم ہونے کے بعد محض نادان ہو جاتے ہیں ۔ اب اگر خلاف اس نص صریح کے کسی کی