تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 425

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۵ سورة الجمعة ؟ رو سے نہایت ہی بدتر معلوم ہوتا ہے۔بیہقی نے اس کے بارے میں ایک حدیث لکھی ہے یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس زمانہ کے مولوی اور فتوی دینے والے ان تمام لوگوں سے بدتر ہوں گے جو اس وقت روئے زمین پر موجود ہوں گے اور حج الکرامہ میں لکھا ہے کہ درحقیقت مہدی اللہ ( مسیح موعود ) پر کفر کا فتویٰ دینے والے یہی لوگ ہوں گے اس بات سے اکثر مسلمان بے خبر ہیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ مسیح موعود پر بھی کفر کا فتویٰ ہوگا چنانچہ وہ پیشگوئی پوری ہوئی غرض وہ زمانہ جو اول زمانہ اور مسیح موعود کے زمانہ کے بیچ میں ہے نہایت فاسد زمانہ ہے چنانچہ اس زمانہ کے لوگوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ اوَلُهَا وَاخِرُهَا - أَوَّلُهَا فِيْهِمْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخِرُهَا فِيْهِمْ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ وَبَيْنَ ذَالِكَ فَيْجُ أَعْوَجُ لَيْسُوا مِثْى وَلَسْتُ مِنْهُمْ یعنی امتیں دو ہی بہتر ہیں ایک اول اور ایک آخر اور درمیانی گروہ ایک لشکر کج ہے جو دیکھنے میں ایک فوج اور روحانیت کے رو سے مردہ ہے نہ وہ مجھ سے اور نہ میں ان میں سے ہوں۔حدیث سیح میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ آخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا تو تحان الإِيْمَانُ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجَلٌ مِنْ فَارِسَ أَوْ رِجَالٌ مِن فَارِس پس اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آخری زمانہ میں فارسی الاصل لوگوں میں سے ایک آدمی پیدا ہوگا کہ وہ ایمان میں ایسا مضبوط ہوگا کہ اگر ایمان ثریا میں ہوتا تو وہیں سے اس کو لے آتا اور ایک دوسری حدیث میں اسی شخص کو مہدی کے لفظ سے موسوم کیا گیا ہے اور اُس کا ظہور آخری زمانہ میں بلاد مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے اور دجال کا ظہور بھی آخری زمانہ میں بلاد مشرقیہ سے قرار دیا گیا ہے۔ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص دجال کے مقابل پر آنے والا ہے وہ یہی شخص ہے اور سنت اللہ بھی اسی بات کو چاہتی ہے کہ جس ملک میں دجال جیسا خبیث پیدا ہوا اسی ملک میں وہ طبیب بھی پیدا ہو۔کیونکہ طبیب جب آتا ہے تو بیمار کی طرف ہی رخ کرتا ہے اور یہ نہایت تعجب کا مقام ہے کہ بموجب احادیث صحیحہ کے دجال تو ہندوستان میں پیدا ہو اور مسیح دمشق کے میناروں پر جا اترے اس میں شک نہیں کہ مدینہ منورہ سے ہندوستان سمت مشرق میں واقع ہے بلاشبہ حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ مشرق کی طرف سے ہی دجال کا ظہور ہو گا اور مشرق کی طرف سے ہی رایات سود مہدی اللہ کے ظاہر ہوں سے گو یا روز ازل سے یہی مقرر ہے کہ محمل فتن بھی مشرق ہی ہے اور محل اصلاح فتن بھی مشرق ہی ہے۔