تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 424
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۴ سورة الجمعة پر بھی ہوتا تب بھی اس کو نہ چھوڑتے سو یہ تعریف کہ وہ ایمان کو آسمان پر سے بھی لے آتے اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں آئیں گے کہ جب چاروں طرف بے ایمانی پھیلی ہوئی ہوگی اور خدا تعالی کی سچی محبت دلوں سے نکل جائے گی مگر ان کا ایمان ان دلوں میں بڑے زور میں ہوگا اور خدا تعالیٰ کے لئے بلاکشی کی ان میں بہت قوت ہوگی اور صدق اور ثبات بے انتہا ہو گا۔نہ کوئی خوف ان کے لئے مانع ہوگا اور نہ کوئی دنیوی امیدان کو سست کرے گی اور ایمانی قوت انہیں باتوں سے آزمائی جاتی ہے کہ ایسی آزمائشوں کے وقت اور بے ایمانی کے زمانہ میں ثابت نکلے۔سواس حدیث میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس گروہ کا اسی وقت میں آنا ضروی ہے جب کہ اس کی آزمائش کے لئے ایسے ایسے اسباب موجود ہوں اور دنیا حقیقی ایمان سے ایسی دور ہو کہ گویا خالی ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ اللہ جل شانہ ان کے حق میں فرماتا ہے کہ وہ آخری زمانہ میں آنے والے خالص اور کامل بندے ہوں گے جو اپنے کمال ایمان اور کمال اخلاص اور کمال صدق اور کمال استقامت اور کمال ثابت قدمی اور کمال معرفت اور کمال خدا دانی کی رو سے صحابہ کے ہمرنگ ہوں گے اور اس بات کو بخوبی یا د رکھنا چاہیئے کہ در حقیقت اس آیت میں آخری زمانہ کے کاملین کی طرف اشارہ ہے نہ کسی اور زمانہ کی طرف کیونکہ یہ تو آیت کے ظاہر الفاظ سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کامل لوگ آخری زمانہ میں پیدا ہوں گے جیسا کہ آیت وَ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ صاف بتلا رہی ہے اور زمانے تین ہیں ایک اول جو صحابہ کا زمانہ ہے اور ایک اوسط جو مسیح موعود اور صحابہ کے درمیان ہے اور ایک آخری زمانہ جو مسیح موعود کا زمانہ اور مصداق آیت وَآخَرِينَ مِنْهُم کا ہے وہ وہی زمانہ ہے جس میں ہم ہیں۔جیسا کہ مولوی صدیق حسن مرحوم قنوجی تم بھو پالوی جو شیخ بطالوی کے نزدیک مجد دوقت ہیں اپنی کتاب مج الکرامہ کے صفحہ ۱۵۵ میں لکھتے ہیں کہ آخریت ایں امت از بدایت الف ثانی شروع کردیده آثار تقوی از اول گم شده بودند و اکنوں سطوت ظاہری اسلام ہم مفقودہ شدہ۔تم کلامہ اور یہ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی زمانے نیک قرار دیئے ہیں ایک صحابہ کا زمانہ جس کا امتداد اس حد تک متصور ہے جس میں سب سے آخر کوئی صحابی فوت ہوا ہو اور امتداد اس زمانہ کا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے وقت تک ثابت ہوتا ہے اور دوسرا زمانہ وسط ہے جس کو بلحاظ بدعات کثیرہ ام الخبائث کہنا چاہیئے اور جس کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فہیج اعوج رکھا ہے اور اس زمانہ کا آخری حصہ جو مسیح موعود کے زمانہ اقبال سے ملحق ہے اس کا حال احادیث نبویہ کے