تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 419

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۹ سورة الجمعة بھی صحابہ کے رنگ میں ہی ہیں۔سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا۔اس زمانہ میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھیٹھے اور جنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور بد زبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اُٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا۔وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی۔بہتیرے اُن میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔بہتیرے اُن میں ایسے ہیں جن کو سچی خوا ہیں آتی ہیں اور الہام الہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔بہتیرے اُن میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔اُن میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یا در کھتے اور دلوں کے نرم اور کچی تقویٰ پر قدم مار رہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن اُن کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے۔اور آسمانی نشانوں سے اُن کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔جیسا کہ صحابہ کو کھینچتا تھا۔غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو اُخَرِينَ مِنْهُمْ کے لفظ سے مفہوم ہو رہی ہیں۔اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا۔!!! اور آیت أَخَرِيْنَ مِنْهُمُ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جیسا کہ یہ جماعت مسیح موعود کی صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مشابہ ہے ایسا ہی جو شخص اس جماعت کا امام ہے وہ بھی ظلی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی موعود کی صفت فرمائی کہ وہ آپ سے مشابہ ہوگا اور دومشابہت اُس کے وجود میں ہوں گی۔ایک مشابہت حضرت مسیح علیہ السلام سے جس کی وجہ سے وہ مسیح کہلائے گا اور دوسری مشابہت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس کی وجہ سے وہ مہدی کہلائے گا۔اسی راز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لکھا ہے کہ ایک حصہ اس کے بدن کا اسرائیلی وضع اور رنگ پر ہوگا اور دوسرا حصہ عربی وضع اور رنگ پر۔حضرت مسیح علیہ السلام ایسے وقت میں آئے تھے جبکہ ملت موسوی یونانی حکماء