تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 411
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۱ سورة الصف گل مذاہب میدان میں نکل آویں اور اشاعت مذہب کے ہر قسم کے مفید ذریعے پیدا ہو جائیں اور وہ زمانہ خدا کے فضل سے آ گیا ہے؛ چنانچہ اس وقت پریس کی طاقت سے کتابوں کی اشاعت اور طبع میں جو جو سہولتیں میسر آئی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ڈاکخانوں کے ذریعہ سے کل دنیا میں تبلیغ ہوسکتی ہے۔اخباروں کے ذریعہ سے تمام دنیا کے حالات پر اطلاع ملتی ہے۔ریلوں کے ذریعہ سفر آسان کر دیئے گئے ہیں۔غرض جس قدر آئے دن نئی ایجادیں ہوتی جاتی ہیں اسی قدر عظمت کے ساتھ مسیح موعود کے زمانہ کی تصدیق ہوتی جاتی ہے اور اظہار دین کی صورتیں نکلتی آتی ہیں۔اس لیے یہ وقت وہی وقت ہے جس کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ لِيُظهِرةُ عَلَى الدِّينِ كُلِہ کہہ کر فرمائی تھی۔یہ وہی زمانہ ہے جو الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَى ( المائدة : ۴) کی شان کو بلند کرنے والا اور تحمیل اشاعت ہدایت کی صورت میں دوبارہ اتمام نعمت کا زمانہ ہے اور پھر یہ وہی وقت اور جمعہ ہے جس میں وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور بروزی رنگ میں ہوا ہے اور ایک جماعت صحابہ کی پھر قائم ہوئی ہے۔اتمام نعمت کا وقت آ پہنچا ہے۔لیکن تھوڑے ہیں جو اس سے آگاہ ہیں اور بہت ہیں جو ہنسی کرتے اور ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں، مگر وہ وقت قریب ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق تجلی فرمائے گا اور اپنے زور آور حملوں سے دکھا دے گا کہ اس کا نذیر سچا ہے۔الحاکم جلد ۶ نمبر ۱۸ مورخه ۱۷ارمئی ۱۹۰۲ صفحه ۶۵) هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَة بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى التنين محلہ پر سوچتے سوچتے مجھے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دولفظ ھدی اور حق کے رکھے ہیں۔ھڈی تو یہ ہے کہ اندر روشنی پیدا کرے۔معمانہ رہے۔یہ گویا ندرونی اصلاح کی طرف اشارہ ہے، جو مہدی کا کام ہے اور حق کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خارجی طور پر باطل کو شکست دیوے چنانچہ دوسری جگہ آیا ہے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ (بنی اسرائیل : ۸۲) اور خود اس آیت میں بھی فرمایا ہے لیظهرَةُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ۔یعنی اس رسول کی آمد کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ حق کو غلبہ دے گا۔یہ غلبہ تلوار اور تفنگ سے نہیں ہوگا، بلکہ وجوہ عقیلہ سے ہوگا۔یا درکھو کہ پاک صاف عقل کا خاصہ ہے کہ وہ قصوں پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ اسرار کو کھینچ لاتی ہے۔اسی واسطے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن کو حکمت دی گئی۔اُن کو خیر کثیر دی گئی ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۳ مورخه ۱/۱۰ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۶)