تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 407

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۷ سورة الصف عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور بچے دین کے ساتھ بھیجاتا اُس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو اس لئے اس آیت کی نسبت اُن سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا کیونکہ اس عالمگیر غلبہ کے لئے تین امر کا پایا جانا ضروری ہے جو کسی پہلے زمانہ میں وہ پائے نہیں گئے۔(۱) اول یہ کہ پورے اور کامل طور پر مختلف قوموں کے میل ملاقات کے لئے آسانی اور سہولت کی راہیں کھل جائیں اور سفر کی ناقابل برداشت مشقتیں دور ہو جائیں اور سفر بہت جلدی طے ہو سکے گو یا سفر سفر ہی نہ رہے اور سفر کو جلد طے کرنے کے لئے فوق العادت اسباب میسر آجائیں کیونکہ جب تک مختلف ممالک کے باشندوں کے لئے ایسے اسباب اور سامان حاصل نہ ہوں کہ وہ فوق العادت کے طور پر ایک دوسرے سے مل سکیں اور بآسانی ایک دوسرے کی ایسے طور سے ملاقات کر سکیں کہ گویا وہ ایک ہی شہر کے باشندے ہیں تب تک ایک قوم کے لئے یہ موقعہ حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ یہ دعوی کریں کہ اُن کا دین تمام دنیا کے دینوں پر غالب ہے کیونکہ غلبہ دکھلانے کے لئے یہ شرط ہے کہ ان تمام مذاہب کا لوگوں کو علم بھی ہو جن پر غالب ہونے کا اظہار بھی کیا گیا ہے اور نیز جن کو مغلوب سمجھا گیا ہے وہ بھی اس بات کا علم رکھتے ہوں کہ ہم اس الزام کے نیچے ہیں۔اور یہ تو تبھی ہو سکتا ہے کہ مختلف ممالک کے لوگ ایسے با ہم قریب ہو جائیں کہ گویا وہ ایک ہی محلہ میں رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ امر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ظہور میں نہیں آسکا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کئی قومیں زمین کے دور دراز کناروں پر آباد تھیں اور پیغام پہنچانے اور سفر کرنے اور با ہمی جلد ملاقات کرنے کے وہ سامان موجود نہ تھے کہ جواب اِس وقت ہمارے اس زمانہ میں موجود ہیں۔ا (۲) دوسرا امر جو اس بات کے سمجھنے کے لئے شرط ہے کہ ایک دین دوسرے تمام دینوں پر اپنی خوبیوں کے رو سے غالب ہے یہ ہے جو دنیا کی تمام قو میں آزادی سے باہم مباحثات کر سکیں اور ہر ایک قوم اپنے مذہب کی خوبیاں دوسری قوم کے سامنے پیش کر سکے اور نیز تالیفات کے ذریعہ سے اپنے مذہب کی خوبی اور