تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 397
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۷ سورة الصف 91916 پھر آپ کا ایک اور نام بھی رکھا گیا۔وہ احمد ہے چنانچہ حضرت مسیح نے اسی نام کی پیش گوئی کی تھی مقام بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ احمد یعنی میرے بعد ایک نبی آئے گا۔جس کی میں بشارت دیتا ہوں اور اس کا نام احمد ہو گا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو اللہ تعالی کی حد سے زیادہ تعریف کرنے والا ہو۔اس لفظ سے صاف پایا جاتا ہے اور سچی بات بھی یہی ہے کہ کوئی اسی کی تعریف کرتا ہے جس سے کچھ لیتا ہے اور جس قدر زیادہ لیتا ہے اسی قدر زیادہ تعریف کرتا ہے۔اگر کسی کو ایک روپیہ دیا جاوے تو وہ اسی قدر تعریف کرے گا اور جس کو ہزار روپیہ دیا جاوے وہ اسی انداز سے کرے گا۔غرض اس سے واضح طور پر پایا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلعم نے سب سے زیادہ خدا کا فضل پایا ہے۔دراصل اس نام میں ایک پیش گوئی ہے کہ یہ بہت ہی بڑے فضلوں کا وارث اور مالک ہوگا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲ مورخه ۱۷/جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۴) حضرت رسول کریم کا نام احمد وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح نے کیا۔يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ - مِنْ بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔الحاکم جلد ۵ نمبر ۴ مورخه ۳۱ / جنوری ۱۹۰۱ صفحه ۱۱)۔دو مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِی اسمه احمد میں بشارت ہے۔اس کے دو ہی پہلو ہیں۔یعنی ایک تو آپ کا وجود ہی بشارت تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے خاندان نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔دوسرے زبان سے بھی بشارت دی یعنی آپ کی پیدائش میں بھی بشارت تھی اور زبانی بھی۔البدر جلد اوّل نمبر ۱۰ مورخه ۲ /جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۷۵) يُريدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ ) اس آیت میں تصریح سے سمجھایا گیا ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں پیدا ہوگا کیونکہ اتمام نور کے لئے (تحفہ گولر و یه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۲۴) چودھویں رات مقرر ہے۔یہ لوگ ارادہ کر رہے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھاویں اور خدا تو باز نہیں رہے گا جب تک کہ اپنے نور کو پورا نہ کرے اگر چہ کا فرلوگ کراہت ہی کریں۔نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۷۹) مخالف لوگ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بچھاویں یعنی بہت سے ملکر کام میں