تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 394
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۴ سورة الصف یا درکھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی۔جب تک کہ عمل نہ ہو اور باتیں عند اللہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں چنانچہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۸۰) مومن کو دورنگی اختیار نہیں کرنی چاہیے یہ بزدلی اور نفاق اس سے ہمیشہ دور ہوتا ہے۔ہمیشہ اپنے قول اور فعل کو درست رکھو اور ان میں مطابقت دکھاؤ جیسا کہ صحابہ نے اپنی زندگیوں میں دکھا یا۔تم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے صدق اور وفا کے نمونے دکھاؤ۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۵ء صفحه ۲) میں دیکھتا ہوں اس وقت قریباً علماء کی یہی حالت ہو رہی ہے لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ کے مصداق اکثر پائے جاتے ہیں اور قرآن شریف پر بگفتن ایمان رہ گیا ہے ورنہ قرآن شریف کی حکومت سے لوگ نکلے ہوئے ہیں۔احادیث سے پایا جاتا ہے کہ ایک وقت ایسا آنے والا تھا کہ قرآن آسمان پر اُٹھ جائے گا۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ وہی وقت آ گیا ہے۔حقیقی طہارت اور تقویٰ جو قرآن شریف پر عمل کرنے سے پیدا ہوتا ہے آج کہاں ہے؟ اگر ایسی حالت نہ ہو گئی ہوتی تو خدا تعالی اس سلسلہ کو کیوں قائم کرتا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۰ مورخه ۱۰ جون ۱۹۰۵ء صفحه ۲) اسلام کا دعویٰ کرنا اور میرے ہاتھ پر بیعت تو بہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ جب تک ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو کچھ نہیں۔منہ سے دعوی کرنا اور عمل سے اس کا ثبوت نہ دینا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کا نا ہے اور اس آیت کا مصداق ہو جاتا ہے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ - كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللهِ اَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ۔یعنی اے ایمان والو تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے ہو۔یہ امر کہ تم وہ باتیں کہو جن پر تم عمل نہیں کرتے خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑے غضب کا موجب ہیں۔پس وہ انسان جس کو اسلام کا دعویٰ ہے یا جو میرے ہاتھ پر تو بہ کرتا ہے اگر وہ اپنے آپ کو اس دعوی کے موافق نہیں بناتا اور اس کے اندر کھوٹ رہتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے بڑے غضب کے نیچے آجاتا ہے اس سے بچنا لازم ہے۔الحکم جلدے نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۳، صفحہ ۱۵) اصل بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی صفائی کرنی چاہیے۔صرف زبان سے کہہ دینا کہ میں نے بیعت کر لی ہے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا جب تک عملی طور سے کچھ کر کے نہ دکھلایا جاوے۔صرف زبان کچھ نہیں بنا سکتی قرآن شریف میں آیا ہے کہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ - كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ