تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 392

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۲ سورة الممتحنة لا يَنْكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُم فِي الدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُم مِّنْ b دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ نصاری وغیرہ سے جو خدا نے محبت کرنے سے ممانعت فرمائی تو اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ نیکی اور احسان اور ہمدردی کرنے سے تمہیں منع کرتا ہے۔نہیں بلکہ جن لوگوں نے تمہارے قتل کرنے کے لئے لڑائیاں نہیں کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نہیں نکالا وہ اگر چہ عیسائی ہوں یا یہودی ہوں بے شک ان پر احسان کرو۔ان سے ہمدردی کرو۔انصاف کرو کہ خدا ایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے۔(نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۵) قرآن شریف نے تو اس امر کی بڑی وضاحت کر دی ہے کہ جنہوں نے تلوار سے مقابلہ کیا ان کا مقابلہ تلوار سے کیا جاوے اور جو لوگ الگ رہتے ہیں اور انہوں نے ایسی جنگوں میں کوئی حصہ نہیں لیا ان سے تم بھی جنگ مت کرو بلکہ ان سے بے شک احسان کرو اور ان کے معاملات میں عدل کیا کرو۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۸) اِنَّمَا يَنْهكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوكُمْ فِى الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَ ظهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ) خدا نے جو تمہیں ہمدردی اور دوستی سے منع کیا ہے تو صرف ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے دینی لڑائیاں تم سے کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نکالا اور بس نہ کیا۔جب تک باہم مل کر تمہیں نکال نہ دیا۔سو ان کی دوستی حرام ہے۔کیونکہ یہ دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔اس جگہ یا در کھنے کے لائق ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تونی عربی زبان میں دوستی کو کہتے ہیں جس کا دوسرا نام مودت ہے اور اصل حقیقت دوستی اور مودت کی خیر خواہی اور ہمدردی ہے۔سومومن نصاری اور یہود اور ہنود سے دوستی اور ہمدردی اور خیر خواہی کرسکتا ہے۔احسان کر سکتا ہے مگر ان سے محبت نہیں کر سکتا۔یہ ایک بار یک فرق ہے اس کو خوب یا درکھو۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۵) تولی کی تا اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تولی میں ایک تکلف ہے جو مغائرت پر دلالت کرتا ہے مگر محبت میں ایک ذرہ مغائرت باقی نہیں رہتی۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۴۳۵ نوٹ )