تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 380
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۰ سورة المجادلة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَيْلٌ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ كَمَا نَافَحَ عَن نَبِيَّكَ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت کے لئے مسجد میں منبر رکھا اور حستان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار سے جھگڑتا تھا اور اُن کی ہجو کا مدح کے ساتھ جواب دیتا تھا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان کے حق میں دعا کی اور فرمایا کہ یا الہی حستان کو روح القدس کے ساتھ یعنی جبرائیل کے ساتھ مدد کر اور ابو داؤد نے بھی ابن سیرین سے اور ایسا ہی ترمذی نے بھی یہ حدیث لکھی ہے اور اُس کو حسن صحیح کہا ہے۔اور بخاری اور مسلم میں بطول الفاظ یہ حدیث بھی موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حستان کو کہا آجِبْ عَلَى اللَّهُمَّ آنِدَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ یعنی میری طرف سے (اے حسان ) کفار کو جواب دے یا الہی اس کی روح القدس سے مدد فرما۔ایسا ہی حسان کے حق میں ایک یہ بھی حدیث ہے هَاجِهِمْ وَجِبْرَائِيلُ مَعَكَ یعنی اے حسان کفار کی بدگوئی کا بدگوئی کے ساتھ جواب دے اور جبرائیل تیرے ساتھ ہے۔اب ان احادیث سے ثابت ہوا کہ حضرت جبرائیل حستان کے ساتھ رہتے تھے اور ہر دم اُن کے رفیق تھے اور ایسا ہی یہ آیت کریمہ بھی کہ ایدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ صاف اور کھلے کھلے طور پر بتلا رہی ہے کہ روح القدس مومنوں کے ساتھ رہتا تھا۔کیونکہ اسی قسم کی آیت جو حضرت عیسی کے حق میں آئی ہے یعنی وَ ايَّدُ نَهُ بروح القدس اس کی تفسیر میں تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ روح القدس ہر وقت قرین اور رفیق حضرت عیسی کا تھا اور ایک دم بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا دیکھو تفسیر حسینی ، تفسیر مظہری ، تفسیر عزیزی، معالم، ابن کثیر وغیرہ اور مولوی صدیق حسن فتح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں یہ عبارت لکھتے ہیں وَ تَكَانَ جِبْرَائِيلُ يَسِيرُ مَعَ عِيسَى حَيْثُ سَارَ فَلَمْ يُفَارِقُهُ حَتَّى صَعِدَ بِهِ إِلَى السَّمَاء یعنی جبرائیل ہمیشہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ ہی رہتا تھا ایک طرفۃ العین بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ ان کے ساتھ ہی آسمان پر گیا۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۰۰ تا ۱۰۵) خدا نے مومنوں کے دل میں ایمان کو اپنے ہاتھ سے لکھ دیا ہے اور روح القدس کے ساتھ ان کی مدد کی۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۹) ايد هُم بِرُوحِ مِنْهُ یعنی خدائے تعالیٰ مومنوں کو روح قدس سے تائید کرتا ہے۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۸۵ حاشیه )