تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 379

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۹ سورة المجادلة لا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَ b لَو كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَبِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ وَيُدخِلْهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَبِكَ حِزْبُ اللهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ المُفْلِحُونَ اُن مومنوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا اور روح القدس سے ان کو مدددی۔دل میں ایمان کے لکھنے سے یہ مطلب ہے کہ ایمان فطرتی اور طبعی ارادوں میں داخل ہو گیا اور مجز وطبیعت بن گیا اور کوئی تکلف اور تصنع درمیان نہ رہا۔اور یہ مرتبہ کہ ایمان دل کے رگ وریشہ میں داخل ہو جائے اُس وقت انسان کو ملتا ہے کہ جب انسان روح القدس سے مؤید ہو کر ایک نئی زندگی پاوے اور جس طرح جان ہر وقت جسم کی محافظت کے لئے جسم کے اندر رہتی ہے اور اپنی روشنی اُس پر ڈالتی رہتی ہے اسی طرح اس نئی زندگی کی روح القدس بھی اندر آباد ہو جائے اور دل پر ہر وقت اور ہر لحفظہ اپنی روشنی ڈالتی رہے اور جیسے جسم جان کے ساتھ ہر وقت زندہ ہے دل اور تمام روحانی قومی روح القدس کے ساتھ زندہ ہوں اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے بعد بیان کرنے اس بات کے کہ ہم نے اُن کے دلوں میں ایمان کو لکھ دیا یہ بھی بیان فرمایا کہ روح القدس سے ہم نے ان کو تائید دی کیونکہ جبکہ ایمان دلوں میں لکھا گیا اور فطرتی حروف میں داخل ہو گیا تو ایک نئی پیدائش انسان کو حاصل ہوگئی اور یہ نئی پیدائش بجز تائید روح القدس کے ہر گز نہیں مل سکتی۔رُوح القدس کا نام اسی لئے روح القدس ہے کہ اُس کے داخل ہونے سے ایک پاک روح انسان کو مل جاتی ہے۔قرآن کریم روحانی حیات کے ذکر سے بھرا پڑا ہے اور جابجا کامل مومنوں کا نام احیاء یعنی زندے اور کفار کا نام اموات یعنی مردے رکھتا ہے۔یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ کامل مومنوں کو روح القدس کے دخول سے ایک جان مل جاتی ہے اور کفار گو جسمانی طور پر حیات رکھتے ہیں مگر اُس حیات سے بے نصیب ہیں جو دل اور دماغ کو ایمانی زندگی بخشتی ہے۔اس جگہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اس آیت کریمہ کی تائید میں احادیث نبویہ میں جا بجا بہت کچھ ذکر ہے اور بخاری میں ایک حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ہے اور وہ یہ ہے۔أَنَّ رَسُولَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ لِحَشَانَ ابْنِ ثَابِتٍ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ فَكَانَ يُنَافِعُ عَنْ رَسُولِ اللهِ