تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 378
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۸ سورة المجادلة وو آئے ہیں نہیں بلکہ خدا کی یہ پیشگوئی عنقریب سچی ہونے والی ہے کہ كَتَبَ اللهُ لأَغْلِبَنَ آنَا وَ رُسُلی کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸) یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے كتب الله لاغلبنَ آنَا وَ رُسُلی اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔(رساله الوصیت ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۴) خدا تعالیٰ کا یہ حتمی وعدہ ہے کہ جو لوگ اس کی طرف سے آتے ہیں وہ فریق مخالف پر غالب ہو جاتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۶۲) مقابلہ کے وقت خدا صادق کی مدد کرتا ہے كَتَبَ اللهُ لأَغْلِبَنَ آنَا وَ رُسُلى - الحکم جلد ۵ نمبر ۹ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۱۰) سچا خدا جس سے پیار کرتا ہے اس کی تائید کرتا ہے کیونکہ وہ خدا فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ أَنَا الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۲) وَرُسُلى - خدا تعالیٰ اپنے بندوں کا حامی ہو جاتا ہے۔دشمن چاہتے ہیں کہ ان کو نسیت و نا بود کریں مگر وہ روز بروز ترقی پاتے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آتے جاتے ہیں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے كتب الله لاغلبنَ أَنا وَرُسُلی یعنی خدا تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۷) لفظ كتب سنت اللہ پر دلالت کرتا ہے یعنی یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو ضرور ہی غلبہ دیا کرتا ہے۔درمیانی دُشواریاں کچھ شئے نہیں ہوتیں اگر چہ وہ ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ ( التوبة : ۱۱۸ ) كا البدرجلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۴) وو مصداق ہی کیوں نہ ہوں۔یا درکھو خدا کے بندوں کا انجام کبھی بد نہیں ہوا کرتا۔اس کا وعدہ كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَ آنَا وَ رُسُلی بالکل سچا ہے اور یہ اسی وقت پورا ہوتا ہے جب لوگ اس کے رسولوں کی مخالفت کریں۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶/ مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۱۱)