تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 364

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۴ سورة الحديد يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمَانِهِمْ يُشْرِيكُمُ الْيَوْمَ جَنْتُ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهُرُ خُلِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْرُ العظيم اس دن بھی ایمانی نور جو پوشیدہ طور پر مومنوں کو حاصل ہے کھلے کھلے طور پر ان کے آگے اور ان کے داہنے ہاتھ پر دوڑ تا نظر آئے گا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۱) اس روز تو دیکھے گا کہ مومنوں کا یہ نور جو دنیا میں پوشیدہ طور پر ہے ظاہر ظاہر ان کے آگے اور ان کے داہنی اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۱) طرف دوڑتا ہو گا۔اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَد بَيَّنَا لَكُمُ الْأَيْتِ لَعَلَّكُم تَعْقِلُونَ یہ خدا کی کمال رحمانیت کی ایک بزرگ تجلی تھی کہ جو اس نے ظلمت اور تاریکی کے وقت ایسا عظیم الشان نور نازل کیا جس کا نام فرقان ہے جوحق اور باطل میں فرق کرتا ہے جس نے حق کو موجود اور باطل کو نابود کر کے دکھلا دیا وہ اس وقت زمین پر نازل ہوا جب زمین ایک موت روحانی کے ساتھ مرچکی تھی اور بڑ اور بحر میں ایک بھاری فساد واقعہ ہو چکا تھا پس اس نے نزول فرما کر وہ کام کر دکھایا جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے اعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی زمین مرگئی تھی اب خدا اس کو نئے سرے زندہ کرتا ہے۔اب اس بات کو بخوبی یا د رکھنا چاہئے کہ یہ نزول قرآن شریف کا کہ جو زمین کے زندہ کرنے کے لئے ہوا یہ صفت رحمانیت کے جوش سے ہوا۔وہی صفت ہے کہ جو بھی جسمانی طور پر جوش مار کر قحط زدوں کی خبر لیتی ہے اور باران رحمت خشک زمین پر برساتی ہے اور وہی صفت کبھی روحانی طور پر جوش مار کر ان بھوکوں اور پیاسوں کی حالت پر رحم کرتی ہے کہ جو ضلالت اور گمراہی کی موت تک پہنچ جاتے ہیں اور حق اور صداقت کی غذا کہ جو روحانی زندگی کا موجب ہے ان کے پاس نہیں رہتی پس رحمان مطلق جیسا جسم کی غذا کو اس کی حاجت کے وقت عطا فرماتا ہے ایسا ہی وہ اپنی رحمت کا ملہ کے تقاضا سے روحانی غذا کو بھی ضرورت حقہ کے