تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 363
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۶۳ سورة الحديد اللہ تعالیٰ کا کلام ایسا ہے کہ اس کی تفصیل بعض آیت کی بعض آیت سے ہوتی ہے۔اول کی تفسیر یہ ہے کہ كَانَ اللهُ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ شَيْ وَاخِرَ کے معنے کے كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَإِنِ ہم تو انہی معنوں کو پسند کریں گے۔جو خدا نے بتلائے ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۱/۲۴اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحه ۷) هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا دو وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌه وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُم یعنی جہاں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۰) جہاں کہیں تم ہو اسی جگہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۱۹) هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَی العرش ترجمہ اس آیت کا یہ ہے کہ خدا وہ ہے جس نے تمام زمین اور آسمانوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔پھر عرش پر اُس نے استوار کیا۔یعنی کل مخلوق کو چھ دن میں پیدا کر کے پھر صفات عدل اور رحم کو ظہور میں لانے لگا۔خدا کا الوہیت کے تخت پر بیٹھنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مخلوق کے بنانے کے بعد ہر ایک مخلوق سے بمقتضائے عدل اور رحم اور سیاست کارروائی شروع کی یہ محاورہ اس سے لیا گیا ہے کہ جب کل اہل مقدمہ اور ارکان دولت اور لشکر با شوکت حاضر ہو جاتے ہیں اور کچہری گرم ہو جاتی ہے اور ہر ایک حقدار اپنے حق کو عدل شاہی سے مانگتا ہے اور عظمت اور جبروت کے تمام سامان مہیا ہو جاتے ہیں تب بادشاہ سب کے بعد آتا ہے اور تخت عدالت کو اپنے وجود باجود سے زینت بخشتا ہے۔غرض ان آیات سے ثابت ہوا کہ آدم جمعہ کے اخیر حصے میں پیدا کیا گیا کیونکہ روز ششم کے بعد سلسلہ پیدائش کا بند کیا گیا۔وجہ یہ کہ روز ہفتم تخت شاہی پر بیٹھنے کا دن ہے نہ پیدائش کا۔یہودیوں نے ساتویں دن کو آرام کا دن رکھا ہے مگر یہ اُن کی غلط نہی ہے بلکہ یہ ایک محاورہ ہے کہ جب انسان ایک عظیم کام سے فراغت پالیتا ہے تو پھر گویا اُس وقت اس کے آرام کا وقت ہوتا ہے سوایسی عبارتیں تو ریت میں بطور مجاز ہیں نہ یہ کہ در حقیقت خدا تعالیٰ تھک گیا اور بوجہ خستہ در ماندہ ہونے کے اس کو آرام کرنا پڑا۔(تحفہ گولار و یه روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۷۹ حاشیہ )