تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 354
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۵۴ سورة الواقعة میں قسم کھاتا ہوں مطالع اور مناظر نجوم کی اور یہ قسم ایک بڑی قسم ہے۔اگر تمہیں حقیقت پر اطلاع ہو کہ یہ قرآن ایک بزرگ اور عظیم الشان کتاب ہے اور اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاک باطن ہیں۔اور اس قسم کی مناسبت اس مقام میں یہ ہے کہ قرآن کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ کریم ہے یعنی روحانی بزرگیوں پر مشتمل ہے اور باعث نہایت بلند اور رفیع دقائق حقائق کے بعض کوتاہ بینوں کی نظروں میں اسی وجہ سے چھوٹا معلوم ہوتا ہے جس وجہ سے ستارہ چھوٹے اور نقطوں سے معلوم ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں کہ در حقیقت وہ نقطوں کی مانند ہیں بلکہ چونکہ مقام ان کا نہایت اعلیٰ وارفع ہے اس لئے جو نظریں قاصر ہیں ان کی اصل ضخامت کو معلوم نہیں کر سکتیں۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۷) قسموں کی صورت میں اللہ جل شانہ ایک امر بدیہہ کو نظری کے ثبوت کے لئے پیش کرتا ہے یا ایک امر مسلم کو غیر مسلم کے تسلیم کرنے کے لئے بیان فرماتا ہے اور جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے وہ در حقیقت قائم جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸۱) مقام شاہد ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کے خاص دوستوں کی علامات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔) پندرھویں علامت ان کی علم قرآن کریم ہے۔قرآن کریم کے معارف اور حقائق ولطائف جس قدر ان لوگوں کو دیئے جاتے ہیں دوسرے لوگوں کو ہر گز نہیں دیئے جاتے۔یہ لوگ وہی مطہر ون ہیں جن کے حق میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۷) مطہرین کی علامتوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان علامت ہے کہ علم معارف قرآن حاصل ہو کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ دینی علم اور پاک معارف کے سمجھنے اور حاصل کرنے کے لئے پہلے سچی پاکیزگی کا حاصل کر لینا اور ناپاکی کی راہوں کا چھوڑ دینا از بس ضروری ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی خدا کی پاک کتاب کے اسرار کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو پاک دل ہیں اور پاک فطرت اور پاک عمل رکھتے ہیں۔دنیوی چالاکیوں سے آسمانی علم ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۳) ست بیگن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۱۲۶) قرآنی حقائق صرف انہی لوگوں پر کھلتے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف اور پاک کرتا ہے۔( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳)