تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 353
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۳ سورة الواقعة كَرِيمُ فِي كِتَبٍ مَكْنُونَ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ) میں مواقع النجوم کی قسم کھاتا ہوں اور یہ بڑی قسم ہے اگر تمہیں علم ہو۔ اور قسم اس بات پر ہے کہ یہ قرآن عظیم الشان کتاب ہے اور اس کی تعلیمات سنت اللہ کے مخالف نہیں بلکہ اس کی تمام تعلیمات کتاب مکنون یعنی صحیفہ فطرت میں لکھی ہوئی ہیں اور اس کے دقائق کو وہی لوگ معلوم کرتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں ( اس جگہ اللہ جل شانہ نے مواقع النجوم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ کیا کہ جیسے ستارے نہایت بلندی کی وجہ سے نقطوں کی طرح نظر آتے ہیں مگر وہ اصل میں نقطوں کی طرح نہیں بلکہ بہت بڑے ہیں ایسا ہی قرآن کریم اپنی نہایت بلندی اور علوشان کی وجہ سے کم نظروں کے آنکھوں سے مخفی ہے اور جن کی غبار دور ہو جاوے وہ اُن کو دیکھتے ہیں اور اس آیت میں اللہ جل شانہ نے قرآن کریم کے دقائق عالیہ کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں سے مخصوص ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے پاک کرتا ہے اور یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اگر علم قرآن مخصوص بندوں سے خاص کیا گیا ہے تو دوسروں سے نافرمانی کی حالت میں کیوں کر مواخذہ ہو گا کیونکہ قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے وہ عام فہم ہے جس کو ایک کا فر بھی سمجھ سکتا ہے اور ایسی نہیں ہے کہ کسی پڑھنے والے سے مخفی رہ سکے اور اگر وہ عام فہم نہ ہوتی تو کارخانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا۔ مگر حقائق معارف چونکہ مدار ایمان نہیں صرف زیادت عرفان کے موجب ہیں اس لئے صرف خواص کو اُس کو چہ میں راہ دیا کیونکہ وہ دراصل مواہب اور روحانی نعمتیں ہیں جو ایمان کے بعد کامل الایمان لوگوں کو ملا کرتی ہیں۔ ) (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۵۲، ۵۳ ) 6 فَلَا أُقْسِمُ بِمَوقِعِ النُّجُومِ وَأَنْتَ فَلَا أُقْسِمُ بِمَوقِعِ النُّجُومِ تو سمجھتا ہے کہ اس تَفْهَمُ أَنَّ فِي هَذَا الْقَوْلِ إِشَارَةٌ إِلى أَنَّ قول میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ستاروں اور لِلنُّجُومِ وَمَوَاقِعِهَا دَخَلٌ لِتَحَسُّسِ زَمَانِ ان کے مواقع کو زمانِ نبوت اور نزول وحی کے تجسس سے النُّبُوَّةِ وَنُزُولِ الْوَحْيِ، وَلأَجْلِ ذَلِكَ قِيلَ ایک تعلق ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ بعض ستارے أَنَّ بَعْضَ النُّجُومِ لَا يَطْلُعُ إِلَّا فِي وَقْتِ صرف کسی نبی کے وقت میں ہی نکلتے ہیں ۔ پس مبارک ظُهُورِ نَبِي مِنَ الأَنْبِيَاء فَطُوبَى لِلَّذِی ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اشاروں کو سمجھتے ہیں پھر يَفْهَمُ إِشَارَاتِ اللَّهِ ثُمَّ يَقْبَلُهَا كَالتَّقَاةِ انہیں متقیوں کی طرح قبول کرتے ہیں ۔ ( ترجمہ از مرتب ) (حمامة البشرى، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۸۹)