تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 343
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۳ سورة الرحمن ہر یک دن وہ ہر ایک کام میں ہے کسی کو بلاوے اور کسی کو ر ڈ کرے اور کسی کو آباد کرے اور کسی کو ویران کرے اور کسی کو عرات دے اور کسی کو ذلت دے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۰) جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت به نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ اور استغنائے ذاتی کے پر توہ کے نیچے ہوتا ہے اور کبھی صفات جمالیہ کا پر توہ اس پر پڑتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ۔چشمه مسیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۹) وہ ( خدا۔ناقل ) اور اس کی صفات قدیم ہی سے ہیں مگر اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہر ایک صفت کا علم ہم کو دے دے اور نہ اس کے کام اس دنیا میں سما سکتے ہیں۔خدا کے کلام میں دقیق نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ وہ از لی اور ابدی ہے اور مخلوقات کی ترتیب اس کے ازلی ہونے کی مخالف نہیں۔البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸) يمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطن خدا تعالیٰ کے ملک سے جو زمین و آسمان سے تم باہر نہیں جا سکتے۔جہاں جاؤ گے خدا کا غلبہ تمہارے ساتھ ہو گا۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۶) وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِن جو شخص خدا تعالیٰ سے خائف ہے اور اس کی عظمت و جلال کے مرتبہ سے ہراساں ہے اس کے لئے دو بہشت ہیں ایک یہی دُنیا اور دوسری آخرت۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۶) جو شخص خدا تعالیٰ کے مقام اور عرات کا پاس کر کے اور اس بات سے ڈر کر کہ ایک دن خدا کے حضور میں پوچھا جائے گا گنہ کو چھوڑتا ہے اُس کو دو بہشت عطا ہوں گے (۱) اول اسی دنیا میں بہشتی زندگی اس کو عطا کی جاوے گی اور ایک پاک تبدیلی اس میں پیدا ہو جائے گی اور خدا اس کا متوتی اور متکفل ہوگا۔دوسرے مرنے کے بعد جاودانی بہشت اس کو عطا کیا جائے گا۔یہ اس لئے کہ وہ خدا سے ڈرا اور اس کو دنیا پر اور نفسانی جذبات