تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 342
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۲ سورة الرحمن رہ جائے جس پر فنا طاری نہ ہو اور تبدل اور تغیر کو قبول نہ کرے اور اپنی پہلی حالت پر باقی رہے۔ پس وہ وہی خدا ہے جو تمام فانی صورتوں کو ظہور میں لایا اور خو دفنا کی دست برد سے محفوظ رہا۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۱،۳۷۰) ہر ایک وجود ہلاک ہونے والا اور تغیر پذیر ہے اور وہ جو باقی رہنے والا ہے وہی خدا ہے یعنی ہر ایک چیز فنا قبول کرتی ہے اور تغیر قبول کرتی ہے مگر انسانی فطرت اس بات کے ماننے کے لئے مجبور ہے کہ اس تمام عالم ارضی اور سماوی میں ایک ایسی ذات بھی ہے کہ جب سب پر فنا اور تغیر وارد ہو اس پر تغیر اور فنا وارد نہیں ہوگی وہ اپنے حال پر باقی رہتا ہے وہی خدا ہے۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۸،۹۷) كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان یعنی ہر ایک جو زمین پر ہے آخر مرے گا پس ۔۔۔۔۔۔ ہر ایک چیز کے لئے بجز اپنی ذات کے موت ضروری ٹھہرادی۔ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۵) خدا تعالی قدیم سے خالق چلا آتا ہے۔ لیکن اس کی وحدت اس بات کو بھی چاہتی ہے کہ کسی وقت سب کو فنا کر دے ۔ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَإِن سب جو اس پر ہیں فنا ہو جانے والے ہیں ۔ خواہ کوئی وقت ہو ۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ وقت کب آئے گا۔ مگر ایسا وقت ضرور آنے والا ہے ۔ یہ اس کے آگے ایک کرشمہ قدرت ہے ۔ وہ چاہے پھر خلق جدید کر سکتا ہے۔ تمام آسمانی کتابوں سے ظاہر ہے کہ ایسا وقت ضرور آنے والا ہے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۹ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۷ ء صفحه (۴) يَسْلُهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ۔ ہمارا خداوند قادر نا در مطلق ایسا نہیں ہے۔ وہ تمام ذرات عالم اور ارواح اور جمیع مخلوقات کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس کی قدرت کی نسبت اگر کوئی سوال کیا جائے تو بجز ان خاص باتوں کے جو اس کی صفات کاملہ اور چاہتا یہ مواعید صادقہ کے منافی ہوں ۔ باقی سب امور پر وہ قادر ہے اور یہ بات کہ گو وہ قادر ہو مگر کرنا نہیں عجیب بے ہودہ الزام ہے جب کہ اس کی صفات میں كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ بھی داخل ہے۔ اور ایسے تصرفات کہ پانی سے برودت دور کرے۔ یا آگ سے خاصیت احراق زائل کر دیوے اس کی صفات کاملہ اور مواعید صادقہ کی منافی نہیں ہیں۔ ( بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹،۲۸) يَسْتَلُهُ مَنْ فِي السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ۔ اس سے مانگنے والے تمام زمین و آسمان کے باشندے ہیں ۔ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۳)