تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 341
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۱ سورة الرحمن مِنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ الْمُرَادَ مِن الرّفع فهُنا بارے میں محقق علماء اس بات پر متفق ہیں کہ یہاں رفع کے هُوَ الْإِمَاتَهُ بِالْإِكْرَامِ وَرَفْعِ الدَّرَجَاتِ معنے عزت کے ساتھ موت دینے اور درجات کو بلند کرنے وَالدَّلِيلُ عَلى ذلِك أَنَّ لِكُلّ إنسانِ کے ہیں اور اس پر دلیل یہ ہے کہ ہر انسان کے لئے موت مَوْتُ مُقَدَّرُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا مقدر ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ یعنی زمین پر جو بھی ہے فنا ہونے والا ہے۔(ترجمہ از مرتب ) فَانٍ (حمامة البشری روحانی خزائن جلدی صفحه ۲۲۰) خدا تعالیٰ نے جو اپنی ذات میں واحد ہے تمام اشیاء کو شے واحد کی طرح پیدا کیا ہے تا وہ موجد واحد کی وحدانیت پر دلالت کریں۔سوخدا تعالیٰ نے اسی وحدانیت کے لحاظ سے اور نیز اپنی قدرت غیر محدودہ کے تقاضا سے استحالات کا مادہ اُن میں رکھا ہے اور بجز اُن روحوں کے جو اپنی سعادت اور شقاوت میں خُلِدانین فيها أبدا (النساء : ١٧٠) کے مصداق ٹھہرائے گئے ہیں اور وعدہ الہی نے ہمیشہ کے لئے ایک غیر متبدل خلقت ان کے لئے مقرر کر دی ہے باقی کوئی چیز مخلوقات میں سے استحالات سے بچی ہوئی معلوم نہیں ہوتی بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو ہر وقت ہر یک جسم میں استحالہ اپنا کام کر رہا ہے یہاں تک کہ علم طبعی کی تحقیقاتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تین برس تک انسان کا جسم بدل جاتا ہے اور پہلا جسم ذرات ہو کر اڑ جاتا ہے۔مثلاً اگر پانی ہے یا آگ ہے تو وہ بھی استحالہ سے خالی نہیں اور دو طور کے استحالے ان پر حکومت کر رہے ہیں ایک یہ کہ بعض اجز انکل جاتے ہیں اور بعض اجزا جدیدہ آ ملتے ہیں۔دوسرے یہ کہ جوا جز انکل جاتے ہیں وہ اپنی استعداد کے موافق دوسرا جنم لے لیتے ہیں۔غرض اس فانی دنیا کو استحالات کے چرخ پر چڑھائے رکھنا خدا تعالیٰ کی ایک برکات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸ حاشیه ) سنت ہے۔ہر یک چیز فنا ہونے والی ہے اور ایک ذات تیرے رب کی رہ جائے گی۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۱) ہر ایک چیز معرضِ زوال میں ہے اور جو باقی رہنے والا ہے وہ خدا ہے جو جلال والا اور بزرگی والا ہے۔اب دیکھو کہ اگر ہم فرض کر لیں کہ ایسا ہو کہ زمین ذرہ ذرہ ہو جائے اور اجرام فلکی بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں اور ان پر معدوم کرنے والی ایک ایسی ہوا چلے جو تمام نشان ان چیزوں کے مٹادے۔مگر پھر بھی معقل اس بات کو مانتی اور قبول کرتی ہے۔بلکہ میچ کا نشنفس اس کو ضروری سمجھتا ہے کہ اس تمام نیستی کے بعد بھی ایک چیز باقی