تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 340

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۰ سورة الرحمن ہو جاوے تو اسے بار بار دوا کیوں دیتے ہیں۔اور آپ کیوں دن رات کے تکرار میں اپنی غذ الباس وغیرہ امور کا تکرار کرتے ہیں۔پچھلے دنوں میں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک انگریز نے محض اسی وجہ سے خود کشی کر لی تھی کہ بار بار وہی دن رات اور غذا مقر ر ہے اور میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۷ ارنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۹) كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَإِن وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ ۲۸ یعنی ہر یک چیز جو زمین میں موجود ہے اور زمین سے نکلتی ہے وہ معرض فنا میں ہے یعنی دمبدم فنا کی طرف میل کر رہی ہے۔مطلب یہ کہ ہر یک جسم خاکی کو نابود ہونے کی طرف ایک حرکت ہے اور کوئی وقت اس حرکت سے خالی نہیں۔وہی حرکت بچہ کو جو ان کر دیتی ہے اور جو ان کو بڑھا اور بڑھے کو قبر میں ڈال دیتی ہے اور اس قانون قدرت سے کوئی باہر نہیں۔خدائے تعالیٰ نے فن کا لفظ اختیار کیا یقینی نہیں کہا تا معلوم ہو کہ فنا ایسی چیز نہیں کہ کسی آئندہ زمانہ میں یکدفعہ واقعہ ہوگی بلکہ سلسلہ فنا کا ساتھ ساتھ جاری ہے لیکن ہمارے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم اسی فانی جسم کے ساتھ جس میں بموجب نص صریح کے ہر دم فنا کام کر رہی ہے بلا تغیر و تبدل آسمان پر بیٹھا ہے اور زمانہ اُس پر اثر نہیں کرتا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی مسیح کو کائنات الارض میں سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۴) جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر یک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہو جائے گی۔اور ہر یک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لیں گی۔اور عمل ناقصہ کے فتا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا اس کی طرف اشارہ ہے كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ - لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (المؤمن : ۱۷) یعنی خدا تعالیٰ اپنی قبری تجلی سے ہر یک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانگت دکھلائے گا۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۳، ۱۵۴ حاشیه در حاشیه ) وَأَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى فِي قِصَّةِ إِدْرِيسَ حضرت اور لیس علیہ السلام کے قصہ کے سلسلہ میں وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا فَاتَّفَقَ الْمُحَقِّقُونَ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا تو اس ا مریم : ۵۸