تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 334

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۴ سورة الرحمن الْمُبِينِ وَصْفاً خاصاً لِلْعَرَبِيَّةِ وَ أشار إلى خاص صفت ٹھہرایا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ وَأَشَارَ أَنَّهُ مِنْ صِفَاتِهِ النَّاتِيَةِ۔وَلَا يَشْتَرِكُ فِيهِ لفظ بیان کا عربی کے صفات خاصہ میں سے ہے اور کوئی اَحَدٌ مِنَ الأَلْسِنَةِ كَمَا لَا يَخفَى عَلَى دوسری زبان اس صفت میں اس کی شریک نہیں جیسا کہ الْمُتَفَكِرِينَ وَأَشَارَ بِلفظ الْبَيَانِ إلى فکر کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور بیان کے لفظ کے بَلاغَةِ هذا النِّسَانِ وَالى انها هي النِّسَانُ ساتھ اس زبان کی بلاغت کی طرف اشارہ کیا اور نیز اس الْعَامِلَةُ وأنها أحَاطَتْ كُلَّمَا اشْتَدَّتْ بات کی طرف اشارہ کہ یہ زبان کامل اور ہر یک امر إِلَيْهِ الْحَاجَةُ وَ تَصَوَّبَتْ مَطَرُهَا بقدر ما مایحتاج پر محیط ہے اور اس کا مبینہ اس قدر برسا ہے جس اقْتَضَتِ الْبَلَدَةُ وَفَاقَتْ كُلَّ لُغَبِ فِي ابْرَازِ قدر زمین کو ضرورت تھی اور دلوں کے خیال ظاہر کرنے مَا فِي الضَّمَائِرِ وَسَاوَی الْفِطْرَةَ الْبَشَرِيَّةَ کے لئے ہر یک زبان پر فائق ہے اور فطرت بشری سے كَتَسَاوِي الدَّوَائِرِ وَكُلَّ مَا اقْتَضَتْهُ ایسی برابر ہے۔جیسا کہ ایک دائرہ دوسرے دائرے الْقُوَى الْإِنْسَانِيَّةُ وَابْتَغَتْهُ التَّصورات سے برابر ہو اور وہ تمام امور جن کو انسانی قویٰ چاہتے ہیں الْإِنْسِيَّةُ وَكُلّ ما طلبه حَوَائِجُ فِطرَةِ اور انسانی تصورات ان کے خواہشمند ہیں اور وہ تمام الْإِنْسَانِ فَيُحَاذِيْنَا مُفْرِدَاتُ هَذِهِ امور جن کو انسانی فطرت کی حاجتیں طلب کرتی ہیں سو اللّسَانِ مَعَ تَبْسِيرِ النُّطْقِ وَالْقَاءِ الْآثر اس زبان کے مفردات ان کے مقابل پر واقع ہیں اور عَلَى الْجَتَانِ فَاتَّبِعْ مَا جَاءَكَ مِنَ الْيَقِينِ ساتھ اس کے یہ خوبی ہے کہ بولنے کے طریق کو آسان ثُمَّ سِيَاقُ هَذِهِ الْآيَةِ يَزِيدُكَ فِي الدَّرَايَةِ کیا گیا ہے ایسا کہ دل پر اثر پڑے پھر اس آیت کا سیاق فَإِنَّهُ يَبُلُّ بِالثَّلَالَةِ الْقَطْعِيَّةِ عَلَى مَا قُلْنَا درایت کو زیادہ کرتا ہے کیونکہ وہ سیاق ان پوشیدہ من الأَسْرَارِ الْخَفِيَّةِ لِتَكُونَ مِن بھیدوں پر دلالت کرتا ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں تا کہ تو الْمُوْقِنِينَ۔فَتَفَكَّرُ فِي آيَةِ الرَّحْمٰنُ عَلَمَ یقین والوں میں سے ہو جائے پس اس آیت میں غور کر الْقُرْآنَ فَإِنَّ الْغَرَضَ فِيْهَا ذِكْرُ الْفُرْقَانِ يعنى الرَّحْمَنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ کیونکہ اس آیت میں مقصود دو وَالْحَقُّ عَلَى الصَّلَاوَةِ وَالْإِمْعَانِ وَلَا يَحْصُلُ باتیں ہیں۔قرآن کی فضیلت کا ذکر اور اس کی تلاوت هذَا الْغَرَضُ إِلَّا بَعْدَ تَعَلُّمِ الْعَرَبِيَّةِ اور سوچنے پر ترغیب اور یہ غرض بجز اس کے حاصل نہیں وَالْمَهَارَةِ الثَّامَةِ فِي هَذِهِ اللَّهْجَةِ۔فَلأَجْلِ ہو سکتی کہ عربی کو سیکھیں اور اس میں مہارت تامہ حاصل 66