تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 316
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١٦ سورة القمر ہے تحقیق اور بے ثبوت عقلی یا آزمائشی یا تاریخی کسی نئی بات کو مان لو کیونکہ اس عادت سے بہت سے رطب یابس کا ذخیرہ اکٹھا ہو جائے گا بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ خدائے ذوالجلال کی تعظیم کر کے اس کے نئے کاموں کی نسبت ( جو تمہاری محدود نظروں میں نئے دکھائی دیتے ہیں ) بے حاضد بھی مت کرو کیونکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں خدائے تعالی کی عجائب قدرتوں اور دقائق حکمتوں اور پیچ در پیچ اسراروں کے ابھی تک انسان نے بکلی حد بست نہیں کی اور نہ آگے کو اس کی لیاقت و طاقت ایسی نظر آتی ہے کہ اس مالک الملک کے وراء الوراء بھیدوں کے ایک چھوٹے سے رقبہ زمین کی طرح پیمائش کر سکے یا کسی ایک چیز کے جمیع خواص پر احاطہ کرنے کا دم مار سکے۔سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۰ تا ۶۸) یہ اعتراض کہ کیوں کر چاند دو ٹکڑے ہو کر آستین میں سے نکل گیا تھا یہ سراسر بے بنیاد اور باطل ہے کیونکہ ہم لوگوں کا ہرگز یہ اعتقاد نہیں ہے کہ چاند دوٹکڑے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آستین میں سے نکلا تھا اور نہ یہ ذکر قرآن شریف میں یا حدیث صحیح میں ہے اور اگر کسی جگہ قرآن یا حدیث میں ایسا ذکر آیا ہے تو وہ پیش کرنا چاہیئے۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی آریہ صاحبوں پر یہ اعتراض کرے کہ آپ کے یاں لکھا ہے کہ مہان دیو جی کی لٹوں سے گنگا نگلی ہے۔پس جس اعتراض کی ہمارے قرآن یا حدیث میں کچھ بھی اصلیت نہیں اس سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ ماسٹر صاحب کو اصول اور کتب معتبرہ اسلام سے کچھ بھی واقفیت نہیں۔بھلا اگر یہ اعتراض ماسٹر صاحب کا کسی اصل صحیح پر مبنی ہے تو لازم ہے کہ ماسٹر صاحب اسی جلسہ میں وہ آیت قرآن شریف پیش کریں جس میں ایسا مضمون درج ہے یا اگر آیت قرآن نہ ہو تو کوئی حدیث صحیح ہی پیش کریں جس میں ایسا کچھ بیان کیا گیا ہو اور اگر بیان نہ کر سکیں تو ماسٹر صاحب کو ایسا اعتراض کرنے سے متندم ہونا چاہئے کیونکہ منصب بحث ایسے شخص کے لئے زیبا ہے جو فریق ثانی کے مذہب سے کچھ واقفیت رکھتا ہو باقی رہا یہ سوال کہ شق قمر ماسٹر صاحب کے زعم میں خلاف عقل ہے جس سے انتظام ملکی میں خلل پڑتا ہے یہ ماسٹر صاحب کا خیال سراسر قلت تدبر سے ناشی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ جل شانہ جو کام صرف قدرت نمائی کے طور پر کرتا ہے وہ کام سراسر قدرت کاملہ کی ہی وجہ سے ہوتا ہے نہ قدرت نا قصہ کی وجہ سے یعنی جس ذات قادر مطلق کو یہ اختیار اور قدرت حاصل ہے کہ چاند کو دوٹکڑہ کر سکے اس کو یہ بھی تو قدرت حاصل ہے کہ ایسے پر حکمت طور سے یہ فعل ظہور میں لاوے کہ اس کے انتظام میں بھی کوئی خلل عائد نہ ہو اسی وجہ سے تو وہ سرب شکتی مان اور قادر مطلق کہلاتا ہے اور اگر وہ قادر مطلق نہ ہوتا تو اس کا دنیا میں کوئی کام نہ چل سکتا۔ہاں یہ