تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 302

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٢ سورة النجم قریب ہوا اور پھر کامل طور پر بنی نوع سے قریب ہوا اس لئے دونوں طرف کے مساوی قرب کی وجہ سے ایسا ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں میں ایک خط ہوتا ہے لہذا وہ شرط جو شفاعت کے لئے ضروری ہے اس میں پائی گئی اور خدا نے اپنے کلام میں اس کے لئے گواہی دی کہ وہ اپنے بنی نوع میں اور اپنے خدا میں ایسے طور سے درمیان ہے جیسا کہ وتر دوقوسوں کے درمیان ہوتا ہے۔ریویو آف ریلی جز جلد نمبر ۵ صفحه ۱۸۲) انسان اور خدا کے درمیان بھی ایک برزخ ہے۔اور وہ تجلیات ہیں۔چنانچہ اس مقام اور مرتبہ کی طرف خدا تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْن او ادنی یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علو مرتبہ کا بیان ہے کیونکہ یہ مرتبہ اس انسان کامل کو مل سکتا ہے جو عبودیت اور الوہیت کے دونوں قوسوں کے درمیان ہوکر ایسا شدید اور قومی تعلق پکڑتا ہے۔گویا ان دونوں کا عین ہو جاتا ہے۔اور اپنے نفس کو درمیان سے اٹھا کر ایک مصفا آئینہ کا حکم پیدا کر لیتا ہے۔اور اس تعلق کی دو جہتیں ہوتی ہیں۔ایک جہت سے یعنی اوپر کی طرف سے وہ تمام انوار و فیوض الہیہ کو جذب کرتا ہے اور دوسری طرف سے وہ تمام فیوض بنی نوع کو حسب استعداد پہنچاتا ہے۔پس ایک تعلق اس کا الوہیت سے اور دوسرا بنی نوع سے۔جیسا کہ اس آیت میں صاف معلوم ہوتا ہے یعنی پھر نزدیک سے ( یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر نیچے کی طرف اترا ( یعنی مخلوق کی طرف اترا یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا ) پس وہ ان تعلقات قرب کے مراتب تام کی وجہ سے دو قوسوں کے وتر کی طرح کا ہو گیا تھا۔بلکہ قوس الوہیت اور عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ قرب ہو گیا۔چونکہ دنو قرب سے ابلغ تر ہے۔اس لئے خدا نے اس لفظ کو استعمال فرمایا اور یہی نقطہ جو برزخ بین اللہ و بین الخلق ہے۔نفسی نقطہ سید نامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا سے لیتے اور بنی نوع کو پہنچاتے ہیں اس لئے آپ کا نام قاسم بھی ہے۔(الحاکم جلد ۵ نمبر ۴۲ مورخه ۷ ارنومبر ۱۹۰۱ صفحه ۳) شفیع کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے معنی جفت کے ہیں۔اس لیے شفیع وہ ہوسکتا ہے جو دو مقامات کا مظہر اتم ہو یعنی مظہر کامل لا ہوت اور ناسوت کا ہو۔لاہوتی مقام کا مظہر کامل ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کا خدا کی طر ف صعود ہو۔وہ خدا سے حاصل کرے اور نا سوتی مقام کے مظہر کا یہ مفہوم ہے کہ مخلوق کی طرف اس کا نزول ہو جو خدا سے حاصل کرے وہ مخلوق کو پہنچاوے اور مظہر کامل ان مقامات کا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ آدنی۔الحکم جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۲ ء صفحه ۵)