تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 296

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۶ سورة النجم اس جگہ خلیفہ کے لفظ سے ایسا شخص مراد ہے کہ جو ارشاد اور ہدایت کے لئے بین اللہ و بین الخلق واسطہ ہو۔خلافت ظاہری کہ جو سلطنت اور حکمرانی پر اطلاق پاتی ہے مراد نہیں ہے اور نہ وہ بجز قریش کے کسی دوسرے کے لئے خدا کی طرف سے شریعت اسلام میں مسلم ہو سکتی ہے بلکہ یہ محض روحانی مراتب اور روحانی نیابت کا ذکر ہے اور آدم کے لفظ سے بھی وہ آدم جو ابو البشر ہے مراد نہیں بلکہ ایسا شخص مراد ہے جس سے سلسلہ ارشاد اور ہدایت کا قائم ہوکر روحانی پیدائش کی بنیاد ڈالی جائے گویا وہ روحانی زندگی کے رو سے حق کے طالبوں کا باپ ہے۔اور یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس میں روحانی سلسلہ کے قائم ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایسے وقت میں جبکہ اس سلسلہ کا نام ونشان نہیں۔پھر بعد اس کے اس روحانی آدم کا روحانی مرتبہ بیان فرمایا اور کہا دَنَا فَتَدَ لى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ ادنی جب یہ آیت شریفہ جو قرآن شریف کی آیت ہے الہام ہوئی تو اس کے معنے کی تشخیص اور تعیین میں تامل تھا۔اور اسی تامل میں کچھ خفیف سی خواب آگئی اور اس خواب میں اس کے معنے حل کئے گئے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنو سے مراد قرب الہی ہے اور قرب کسی حرکت مکانی کا نام نہیں بلکہ اس وقت انسان کو مقرب الہی بولا جاتا ہے کہ جب وہ ارادہ اور نفس اور خلق اور تمام اضداد اور اغیار سے بکی الگ ہو کر طاعت اور محبت الہی میں سرا پا محو ہو جاوے اور ہر یک ماسوا اللہ سے پوری دوری حاصل کر لیوے اور محبت الہی کے دریا میں ایسا ڈوبے کہ کچھ اثر وجود اور انانیت کا باقی نہ رہے۔اور جب تک اپنی ہستی کے لوٹ سے مبر انہیں اور بقا باللہ کے پیرایہ سے منتقلی نہیں تب تک اس قرب کی لیاقت نہیں رکھتا۔اور بقا باللہ کا مرتبہ تب حاصل ہوتا ہے کہ جب خدا کی محبت ہی انسان کی غذا ہو جائے اور ایسی حالت ہو جائے کہ بغیر اس کی یاد کے جی ہی نہیں سکتا اور اس کے غیر کا دل میں سمانا موت کی طرح دکھائی دے اور صریح مشہور ہو کہ وہ اس کے ساتھ جیتا ہے اور ایسا خدا کی طرف کھینچا جاوے جو دل اس کا ہر وقت یاد اہی میں مستغرق اور اس کے درد سے دردمند ر ہے۔اور ماسوا سے اس قدر نفرت پیدا ہو جائے کہ گو یا غیر اللہ سے اس کی عداوت ذاتی ہے جن کی طرف میل کرنے سے بالطبع دکھ اٹھاتا ہے۔جب یہ حالت متحقق ہوگی تو دل جو مورد انوار الہی ہے خوب صاف ہوگا اور اسماء اور صفات الہی کا اُس میں انعکاس ہوکر ایک دوسرا کمال جو تدلّی ہے عارف کے لئے پیش آئے گا۔اور تدلّی سے مراد وہ ہبوط اور نزول ہے کہ جب انسان متخلق با خلاق اللہ حاصل کر کے اس ذات رحمان و رحیم کی طرح شفقنا علی العباد عالم خلق کی طرف رجوع کرے۔اور چونکہ کمالات دنو کے کمالات تدلّی سے لازم ملزوم ہیں۔پس ترتی اسی قدر ہوگی جس قدر دنو ہے۔اور