تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 295
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۵ سورة النجم وَأَمَانَتَهُ وَقُرْبَهُ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِينَ فَلَا قرب کا ذکر کیا ہے پس اس کو شیطان وہی سمجھے گا جو يَحْسِبُهُ شَيْطَانًا إِلَّا الَّذِي هُوَ شَيْطَانٌ لَعِيْنٌ خود شیطان ہے۔ (ترجمہ اصل کتاب سے ) (نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۶۵ تا ۱۷۰) تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلہ محبت الہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ وریشہ پر استیلا پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے اور اس حالت میں آتشِ محبت الہی لوح قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے بلکہ معاً اس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اٹھتا ہے اور اس کی لوئیں اور شعلے ارد گرد کو روز روشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفات کا ملہ کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کو روح امین کے نام سے بولتے ہیں کیونکہ یہ ہر ایک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اس کا نام شدید القوی بھی ہے کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تروحی متصور نہیں ۔ اور اس کا نام ذوالافق الا علی بھی ہے کیونکہ یہ وحی الہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اور اس کو رای ما دای کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان اور و ہم سے باہر ہے اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسان کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے۔ اور دائرہ استعدادت بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے اور وہ در حقیقت پیدائش الہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے جو ارتفاع کے تمام مراتب کا انتہا ہے۔ حکمت الہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنی خلقت سے اور اسفل سے اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم جس کے معنے یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی کمالات تامہ کا مظہر۔ توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۳ ، ۶۴ ) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى ۱۰ ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے الہام أردتُ أنْ اسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ أَدَمَ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ یعنی میں نے اپنی طرف سے خلیفہ کرنے کا ارادہ کیا۔ کی تشریح میں فرماتے ہیں ۔ )