تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 291
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۱ سورة النّجم وَأَمَّا قَوْلُ الْمُعْتَرِضِ الْفَتَانِ أَنَّ مگر معترض فتنہ انگیز کا یہ قول کہ ذی مرۃ شیطان کا ذِى مِرَّةٍ اِسْمُ الشَّيْطَانِ وَقَالَ اِنَّ الْمِرَّةَ نام ہے اور جو اس نے کہا کہ مزہ مادہ صفرا کو کہتے ہیں اور اس هِيَ مَادَةُ الصَّفْرَاءِ ، وَبَاطِلُ كُلُّ مَا کے برخلاف ہر ایک رائے باطل ہے پس یہ اس کا تمام يُخَالِفُهُ مِنَ الْأَرَاءِ فَهَذَا كُلُّهُ كِنب و کذب اور دجل اور تلبیس ہے اور دجالوں اور فتنہ انگیزوں دَجُلٌ وَتَلْبِيسُ وَنَعُوذُ بِالله مِن سے خدا کی پناہ۔بلکہ وہ امر صیح جس کی نظیریں اہلِ زبان الجَالِينَ الْمُفْتِنِينَ بَلِ الْأَمْرُ کے پلیٹوں اور فصیحوں کے کلمات میں پائی جاتی ہیں یہ ہے الصَّحِيحُ الَّذِي يُوجَدُ نظائره في کہ تا کہ کو جب بٹ دے کر پختہ کرتے ہیں تو اس پختہ كَلِمَاتِ بُلَغَاءِ لِسَانِ الْعَرَبِ وَنَوَايع کرنے کا نام مزہ ہے اور مزہ کے معنوں کا اصل یہ ہے کہ ذَوِى الْأَدَبِ أَنَّ أَصْلَ الْمِرَّةِ إحكام اس قدر تا گہ کو بٹ چڑھایا جائے اور مروڑ ا جائے کہ وہ پختہ الْفَتْلِ وَإِدَارَةُ الْخَيُوطِ عِنْدَ الْوَصْلِ ہو جائے جیسا کہ یہی معنے صاحب تاج العروس شارح كَمَا قَالَ صَاحِبُ تاج العروس القاموس نے کئے ہیں پھر اس لفظ کو مروڑ نے اور بٹ شَارِحُ الْقَامُوسِ ثُمَّ نَقَلُوا هذا چڑھانے سے منتقل کر کے اس کے نتیجہ کی طرف لے آئے الْإِحْكامِ وَالإِدَارَةِ إلى یعنی قوت اور طاقت کی طرف جو بٹ چڑھانے کے بعد پیدا مِنَ لتِيْجَتِهِ أَعْنِي إِلَى الْقُوَّةِ وَالطَّاقَةِ فَإِنَّ ہوتی ہے کیونکہ جب تاگا کو بٹ چڑھایا جاوے پس یہ الْحَبْلُ إِذا أَحْكِمَ فَتْلُهُ فَلا بُدَّ مِن أَن ضروری امر ہے کہ بٹ چڑھانے کے بعد اس میں قوت اور يُتَقَوَى بَعْدَ أَنْ يُشَدَّ وَيُسَوَى، وَيَكُونُ طاقت پیدا ہو جائے اور ایک شے قومی متعین ہو جائے۔پھر كَفَنِي قَوِي مَعِينٍ ثُمَّ نُقِلَ مِنْهُ إِلَى یہ لفظ عقل کے معنوں کی طرف منتقل کیا گیا جیسا کہ حقل کا الْعَقْلِ كَنَقْلِ الْحَقْلِ إِلَى الْحَقْلِ لأَنّ لفظ جو بمعنی زمین خوش پاکیزہ ہے حقل یعنی کھیت نوسبزہ کی الْعَقْلَ طَاقَةٌ تُحصَل بَعْدَ إِمْرَارِ طرف منتقل ہو گیا کیونکہ عقل بھی ایک طاقت ہے جو بعد محکم مُقَدَّمَاتٍ وَإِحْكامِ مُشَاهَدَاتٍ تجلبها کرنے مقدمات اور پختہ کرنے مشاہدات کے پیدا ہوتی الْحَشُ الْمُشْتَرِكُ مِنَ الْحَوَاشِ بِإِذْنِ ہے اور حس مشترک ان مشاہدات کو حواس سے باذن رب رَبِّ النَّاسِ وَأَحْسَنِ الْخَالِقِينَ ثُمَّ الناس لیتی ہے۔پھر یہ لفظ ہم رتبہ رابعہ ایک بدنی مزاج کی نُقِلَ هَذَا اللفظ في المَرْتَبَةِ الرَّابِعَةِ إلى طرف منتقل کیا گیا یعنی صفرا کی طرف جو طبائع اربعہ میں سے اللفظ