تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 287
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۷ سورة النجم آسمانوں کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہیں پھر وہ مکہ یا مدینہ میں کیوں کر سما سکتے تھے۔جب تم حقیقت اور اصل کی شرط سے جبرائیل کے نزول کا عقیدہ رکھو گے تو ضرور تم پر یہ اعتراض وارد ہو گا کہ وہ اصلی وجود کیوں کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ میں سما گیا اور اگر کہو کہ وہ اصلی وجود نہیں تھا تو پھر ترک اصل کے بعد تمثل ہی ہوا یا کچھ اور ہوا اصل کا نزول تو اس حالت میں ہو کہ جب آسمان میں اس وجود کا نام ونشان نہ رہے اور جب آسمان سے وہ وجود نیچے اتر آیا تو پھر ثابت کرنا چاہیئے کہ کہاں اس کے ٹھہرنے کی گنجائش ہوئی۔غرض یہ خیال کہ جبرائیل اپنے اصلی وجود کے ساتھ زمین پر اتر آتا تھا بد یہی البطلان ہے۔خاص کر جب دوسری شق کی طرف نظر کریں اور اس فساد کو دیکھیں کہ ایسا عقیدہ رکھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اکثر اوقات فیض وجی سے محروم اور معطل رہیں تو پھر نہایت بے شرمی ہوگی کہ اس عقیدہ کا خیال بھی دل میں لاویں۔شیخ عبد الحق محدث دہلوی مدارج النبوت کے صفحہ ۸۳ میں لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کلمات و حدیث وحی خفی ہیں باستثناء چند مواضع یعنی قصہ اسا رائے بدر وقصہ ماریہ وعسل و تا بیر نخل جو نادر اور حقیر ہیں۔اور پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں کہ اوزاعی حسان بن عطیہ سے روایت کرتا ہے کہ نزول جبرائیل قرآن سے مخصوص نہیں بلکہ ہر یک سنت نزول جبرائیل سے ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد بھی وحی میں سے ہے۔اور پھر صفحہ ۸۷ میں لکھتے ہیں کہ صحابہ آنحضرت صلعم کے ہر یک قول و فعل قلیل و کثیر وصغیر و کبیر کو وحی سمجھتے تھے۔اور اُس پر عمل کرنے میں کچھ تو قف اور بحث نہیں کرتے تھے اور حرص رکھتے تھے کہ جو کچھ آنحضرت صلعم سر اور خلوت میں کرتے ہیں وہ بھی معلوم کر لیں۔پس کچھ شک نہیں کہ جو شخص احوال صحابہ میں تامل کرے کہ وہ کیوں کر ہر یک امر اور قول اور فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حجت دین سمجھتے تھے اور کیوں کر وہ آنحضرت کے ہر یک زمانہ اور ہر یک وقت اور ہر یک دم کو وحی میں مستغرق جانتے تھے۔تو اس اعتقاد کے رکھنے سے کہ کبھی جبرائیل حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر آسمان پر چلا جاتا تھا خدا تعالیٰ سے شرم کرے گا اور ڈرے گا کہ ایسا وہم بھی اس کے دل میں گزرے مگر افسوس کہ ہمارے یہ علماء جو محدث بھی کہلاتے ہیں کچھ بھی ڈرتے نہیں اگر ان کے ایسے عقیدوں کو ترک کرنا کفر ہے تو ایسا کفر اگر ملے تو زہے سعادت۔ہم ان کے ایسے ایمان سے سخت بیزار ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف ان کے ایسے اقوال سے داد خواہ ہیں جن کی وجہ سے سخت اہانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں میں ہو رہی ہے ان لوگوں کے حق میں کیا کہیں اور کیا لکھیں جنہوں نے کفار کونسی اور ٹھٹھہ کا موقع دیا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو