تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 281
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّجِيمِ ۲۸۱ سورة النجم بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النجم بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوى فى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوى ، وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْى يُوحَى عَلَمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى 3 ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى 3 وَهُوَ بالأفق الاعلى قسم ہے تارے کی جب طلوع کرے یا گرے کہ تمہار ا صاحب بے راہ نہیں ہوا اور نہ بہک گیا اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ اُس کی ہر یک کلام تو وحی ہے جو نازل ہو رہی ہے جس کو سخت قوت والے یعنی جبرائیل نے سکھلایا ہے وہ صاحب قوت اس کو پورے طور پر نظر آیا اور وہ کنارہ بلند پر تھا۔اس قسم کے کھانے سے مدعا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا امر کہ کفار کی نظر میں ایک نظری امر ہے ان کے ان مسلمات کی رُو سے ثابت کر کے دکھلایا جاوے جو اُن کی نظر میں بدیہی کا حکم رکھتے تھے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۰۳ حاشیه ) جہاں تک پتہ لگ سکتا ہے۔مفسرین بھی لکھتے ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی سے پہلے بہت ستارے ٹوٹے تھے اور یہاں بھی شاید ۱۸۸۵ء میں ہمارے دعوئی سے پہلے بہت سے ستارے ٹوٹے تھے۔ایک لشکر کا لشکر اس طرف سے اُس طرف چلا جاتا تھا اور اُس طرف سے اس طرف چلا آتا تھا۔