تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 256
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۶ سورة الحجرات بعض لوگ دوسری قوموں کو حقیر سمجھتے ہیں۔اس ابتلا میں سید سب سے زیادہ مبتلا ہیں ایک عورت گداگر ہمارے ہاں آئی۔وہ کہتی تھی کہ میں سیدانی ہوں۔اس کو پیاس لگی اور پانی مانگا تو کہا کہ پیالہ دھوکر دینا کسی امتی نے پیا ہوگا۔اس قسم کے خیالات ان لوگوں میں پیدا ہوئے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے حضور ان باتوں کی کچھ قدر نہیں۔اس نے فیصلہ کر دیا ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۶) یا درکھنا چاہیے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ الله انفسکم یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پرہیز گار ہے۔اخبار بدر جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخه ۲ /اگست ۱۹۰۶ ء صفحه ۱۲) قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدُ خُلِ الإِيمَانُ في قُلُوبِكُمْ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلتُكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا دو إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيم ۱۵ عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔اُن سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے۔ہاں یوں کہو کہ ہم نے اطاعت اختیار کر لی ہے اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔پس جبکہ خدا اطاعت کرنے والوں کا نام مومن نہیں رکھتا۔پھر وہ لوگ خدا کے نزدیک کیوں کر مومن ہو سکتے ہیں جو کھلے کھلے طور پر خدا کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہزار ہانشان دیکھ کر جو زمین اور آسمان میں ظاہر ہوئے پھر بھی میری تکذیب سے باز نہیں آتے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۸) عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ان کو کہہ دے کہ تم ایمان نہیں لائے۔ایمان تو اور ہی چیز ہے سو تم یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کے لئے گردن ڈال دی اور ایمان کا ہنوز تمہارے دلوں میں گزرتیک نہیں ہوا۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۶،۲۳۵) ایک اور عجیب مناسبت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت یشوع بن نون علیہ السلام سے ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت یشوع بن نون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک ہولناک دریا سے جس کا نام بیردن ہے عبور مع لشکر کرنا پیش آیا تھا اور یر دن میں ایک طوفان تھا اور عبور غیر ممکن تھا اور اگر اس طوفان سے عبور نہ ہوتا تو بنی اسرائیل کی دشمنوں کے ہاتھ سے تباہی متصور تھی اور یہ وہ پہلا امر ہولناک تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام