تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 243
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لله الله سورة الفتح رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرْبَهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے خلاف بڑا جوش رکھتے ہیں لیکن يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا آپس میں ایک دوسرے سے بہت ملاطفت کرنے والے ہیں ۔ جب تو سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ انہیں دیکھے گا انہیں شرک سے پاک اور اللہ کا مطیع پائے گا۔ وہ اللہ کے فضل السُّجُودِ ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِی اور رضا کی جستجو میں رہتے ہیں۔ ان کی شناخت ان کے چہروں پر سجدوں کے وود التوايةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ نشان کے ذریعہ موجود ہے میدان کی حالت تو رات میں بیان ہوئی ہے اور التَّوْرَةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ انجیل میں ان کی حالت یوں بیان ہے کہ وہ ایک کھیتی کی طرح ہوں گے گزرع الحرج قطعه فازرہ یوں ہے کہ وہ ایک کی ہوں أَخْرَجَ شَطْهُ فَأَزَرَةً جس نے پہلے تو اپنی روئیدگی نکالی پھر اس کو آسمانی اور زمینی غذا کے ذریعہ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلى سُوقِه مضبوط کیا اور وہ روئیدگی اور مضبوط ہوگئی پھر اپنی جڑھ پر مضبوطی سے قائم يُعْجِبُ الزُّرَاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ہوگئی یہاں تک کہ زمیندار کو پسند آنے لگ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ الْكُفَّارَ فَانْظُرْ كَيْفَ سَمی کل کفار ان کو دیکھ دیکھ کر جلیں گے۔ دیکھو اس آیت میں کس طرح اللہ تعالیٰ مَنْ عَادَاهُمْ كَافِرًا، وَغَضِبَ نے ہر اس شخص کا نام کا فر رکھا ہے اور اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے رض عَلَيْهِمْ فَاخْشَ الله وَاتَّقِ جس نے صحابہؓ سے دشمنی کی ۔ پس اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں سے رض الَّذِي يَغِيظُ بِالصَّحَابَةِ كَافِرِينَ | جو صحابہؓ سے دشمنی کی وجہ سے کافر ہو گئے ہیں۔ ہیں ۔ ( ترجمہ از مرتب ) (سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۳۰) بچو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں (۱) ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن شریف میں یہ آیت ہے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُم (۲) دوسر ابعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے وَ مُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ( الصف : ) (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۵۴) مومن مومن کبھی نہیں ہو سکتا جب تک کہ کفر اس سے مایوس نہ ہو جاوے۔ فتح مسیح کو ایک بار ہم نے رسالہ بھیجا اس پر اس نے لکیریں کھینچ کر واپس بھیج دیا اور لکھا کہ جس قدر دل آپ نے دکھایا ہے کسی اور نے نہیں دکھایا۔ دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن نے خود اقرار کر لیا کہ ہمارا دل دُکھا۔ پس ایسی مضبوطی ایمان میں پیدا کرو کہ کفر مایوس ہو جاوے کہ میرا قابو نہیں چلتا ۔ اشد آءٌ عَلَى الْكُفَّارِ کے یہ معنی بھی ہیں ۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۹ مورخه ۱۰ رجون ۱۹۰۴ء صفحه ۱)