تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 235

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۵ سورة محمد سخت ہو گا۔پس جس طرح خوش قسمت بچہ کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنی پیاری ماں سے ہرگز علیحدگی اختیار نہ کرے اور ہر گز اس کی گود سے جدا نہ ہو اور اس کے دامن کو نہ چھوڑے یہی عادت ان مبارک مقدسوں کی ہوتی ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر ایسے جا پڑتے ہیں جیسا کہ ماں کی گود میں بچے اور جیسا کہ ایک بچہ اپنا تمام کام اپنی ماں کی طاقت سے نکالتا ہے اور ہر ایک دوسرا بچہ جو اس سے مخالفت کرتا ہے یا کوئی کتا اس کے سامنے آتا ہے یا کوئی اور خوف نمودار ہوتا ہے یا کسی لغزش کی جگہ پر اپنے تئیں پاتا ہے تو فی الفور اپنی ماں کو پکارتا ہے تا وہ جلد تر اس کی طرف دوڑے اور اس آفت سے اس کو بچاوے۔یہی حال ان روحانی بچوں کا ہوتا ہے کہ بعینہ اپنے رب کو ماں کی طرح سمجھ کر اس کی طاقتوں کو اپنا ذخیرہ سمجھتے ہیں اور ہر وقت اور ہر دم اس کی طاقتوں کو طلب کرتے رہتے ہیں اور جس طرح شیر خوار بچہ جب بھوک کے وقت اپنا منہ اپنی ماں کے پستان پر رکھ دیتا ہے اور اپنی طبعی کشش سے دودھ کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہے تو جبھی کہ ماں محسوس کرتی ہے کہ گر یہ اور زاری کے ساتھ اس بچہ کے نرم نرم ہونٹ اس کے پستان پر جالگے ہیں تو طبعاً اس کا دودھ جوش مارتا ہے اور اس بچہ کے منہ میں گرتا جاتا ہے پس یہی قانون ان بچوں کے لئے بھی ہے جو روحانی دودھ کے طالب ( عصمت انبیاء علیہم السلام، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۷۱ تا ۶۷۸) اور جو یاں ہیں۔اِنَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهُوَ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوايُوتِكُمْ أَجُورَكُمْ وَلَا يَسْلُكُمْ أموالكم دنیا اور دنیا کی خوشیوں کی حقیقت لہو ولعب سے زیادہ نہیں۔یا تو وہ عارضی اور چند روزہ ہیں اور ایسی ہی ہیں اور ان خوشیوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا سے دور جا پڑتا ہے۔مگر خدا کی معرفت میں جو لذت ہے وہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو نہ آنکھوں نے دیکھی اور نہ کانوں نے سنی ، نہ کسی اور جس نے اس کو محسوس کیا ہے۔وہ ایک چیر کر نکل جانے والی چیز ہے۔ہر آن ایک نئی راحت اس سے پیدا ہوتی ہے جو پہلے نہیں دیکھی ہوتی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کا ایک خاص تعلق ہے۔اہل عرفان لوگوں نے بشریت اور ربوبیت کے جوڑہ پر بہت لطیف بخشیں کی ہیں۔اگر بچے کا منہ پتھر سے لگا ئیں تو کیا کوئی دانشمند خیال کر سکتا ہے کہ اس پتھر میں سے دودھ نکل آئے گا اور بچہ سیر ہو جائے گا۔ہر گز نہیں۔اسی طرح پر جب تک انسان خدا تعالی کے آستانہ پر نہیں گرتا اس کی روح ہمہ نیستی ہو کر ربوبیت سے تعلق پیدا نہیں کرتی اور نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ عدم یا